بوائز سکول کی یادیں

بوائز سکول سے پڑھنے والوں کے بڑے دکھ ہیں اور ان سب دکھوں میں سےعظیم تر دکھ کا اظہار اکثر ٹائم لائن پر کسی دوست کی طرف سے سامنے آتا ہےاور وہ کچھ اس طرح کا نوحہ ہوتا ہے۔
میری آپ سے پہلی ملاقات کب ہوئ-
مجھے آپ نے سب سے پہلے کہاں دیکھا-
کوئ ایسی بات جو آج تک آپ نے مجھ سے نہ کہی ہو-
اگر ہم دوبارہ سے اجنبی بن کر ملیں تو کیا آپ میرے دوست بنیں گے ؟
یاسرہ رضوی نے لکھا تھا “ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں “ لیکن شایدوہ یہ لکھنا بھول گئ کہ نہ ملنے کی محرومی بھی دائمی ہوتی ہے-
یہ تمام تر سوالات دراصل جنس مخالف دوستوں سے کیے جانے والے ہیں اور خاص کر ان سے جن کی پلیٹوں سے آپ نے چوری چھپے چپس اٹھاۓ ہوں ، نظر بچا کے چاۓ کے کپ سے سپ لیا ہو ، پنسل یا پین لے کر گما دینے کا بہانہ کیا ہو ، سال کے اختتام پر ڈرائنگ والی کاپی دبا لی ہو اور پتہ نہ چلنے دیا ہو، لائٹر گرا ہو ،اٹھایا تو ہو مگر پھر کبھی اس کے اصل مالک کو نہ ملاہواور جس کی ٹوٹی عینک کا فریم آج تک آپ کی الماری میں پڑا ہو لیکن اس سے دیکھنے والی آنکھ آپ تک نہ پہنچی ہو اور ان سب حرکتوں کا سامنے والے کو علم نہ ہولیکن آپ “کھوتر” لگانا چاہ رہے ہوں کہ شاید “ دوسری طرف بھی آگ برابر لگی ہو “۔
اس تمام تر حقیقت کے باوجود یہ باتیں مذکر کی نسبت سے شاید اس لیے لکھی جاتی ہیں کہ اردو شاعری میں محبوب کو مذکر ہی مان لیا گیا ہے اور ایک استاد نے اس کی وجہ یہ بتائ ہے کہ اگر مومن کے اس شعر کی تشریح کرنی ہو
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئ دوسرا نہیں ہوتا
تو اب اس کو مؤنث کے حساب سے پڑھ کے تشریح لکھیں تو پڑھنے والے کو بھی لگ سمجھ جاۓ گی-
تو جو بوائز اونلی سکول کے پڑھے ہوتے ہیں ان کی ایسی کوئ یاد نہیں ہوتی ، سکول کے زمانے کے قصے کسی سے بھی پوچھ لیں ، ناک منہ سے خون سب نے بہایا ہوتا ہے اور خود بھی ان معصوم رنجشوں کا شکار رہےہوتے ہیں لیکن جو کمی رہ گئی اس کا اظہار کبھی نہ کبھی سامنے آجاتا ہے-
شہروں کے بوائز اونلی والوں کو شاید پھر بھی کچھ اچھا مل جاتا ہو یاد کرنے کو لیکن گاؤں والے اگر اس طرح کے سوالوں کا جواب اللہ کو حاظر ناظر جان کر لکھنا شروع کر دیں تو صورتحال کچھ ایسی ہو گی،
میں نے تمہیں سب سے پہلے بریک ٹائم میں تندور کی روٹی جام کےساتھ کھاتے ہوۓ دیکھا تھا-
تم مجھے سب سے برے اس دن لگے تھے جب تم ناک سے رسہ کھینچ رہے تھے-
تم مجھے سب سے پیارے اس دن لگے تھےجب خاکی یونیفارم کے ساتھ تم سفید جوگر پہن کے سکول آۓ تھے-
یاد ہے تم نے اک دن چھلکا اتار کر آدھا کیلا کھا کر آدھا جیب میں ڈال لیا تھا کہ بریک میں کھاؤں گا-
تم سے میری پہلی ملاقات اس دن ہوئ تھی جب ہیڈماسٹر صاحب نے تمہیں چھٹی کرنے پر ،بڑے لڑکے بھیج کر اٹھا کر سکول لے آنے کو بھیجا تھا-
وہ دن سب سے یادگار تھا جب استادمحترم نے آپ کو مرغا بنانے سے پہلے مورچے کے آگے سے حفاظتی سامان اٹھانے کو کہا تھا تا کہ گن نشانے پہ لی جا سکے-
اب بتائیے ایسی باتیں کون یاد کروانا چاہے گا-
اب شاید کسی کو وہ دن بھی یاد آجاۓجب میں نے کلاس میں کھڑے ہو کر ٹیچر سےجگہ بدلنے کا کہا تھا اور وہاں زہریلی گیسوں کے ذخیرے کی نشاندہی کی تھی-
جن کی ایسی یادیں ہوں وہ یقینا دوسرے جنم میں ملنا بھی پسند نہیں کریں گے-

عاقل اعوان (۱۴ مئی ۲۰۲۲)


Leave a comment