پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی یا نہیں تھی وہ اب ماضی کا حصہ ہے ، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان ایچیسن کی اشرافیہ کی جاگیر ضرور ہے۔ علی گڑھ والے جب پاکستان بنا رہے تھے تو مفتی محمود اور مودودی جیسے مذہبی رہنما پاکستان کوایک “نیشنلسٹ پروجیکٹ” کہہ رہے تھے ، جب بن گیا تو ملا نے یوٹرن لے لیا کہ اب اگر بن ہی گیا ہے تو اب ہم اس کو اسلام کا قلعہ بنا کر چھوڑیں گے، اور یہ اسلام کا قلعہ صرف غریب کے لیے ہو گا کیونکہ ملا جہادی ہو یا سیاسی ان کی اپنی اولادیں ان تجربوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے نام پر سیاسی طور پر ایک سیکولر پہچان رکھنے والے محمد علی جناح کو فرنٹ پر رکھا لیکن پاکستان بنتے ساتھ ہی مقتدر حلقوں کو بھی خدا یاد آ گیا اور مذہب فروشی شروع کر دی گئی , جناح کی وفات کے بعد جناح کی سوچ کے متوازی مسلم لیگ کے پاس کوئی لیڈر نہیں تھا ، پاکستان مقامی زبانوں ، ثقافتوں اور مختلف معاشرتی اقدار کا مجموعہ تھا ، اس صورتحال میں مفاد پرست سیاست دانوں اور مذہب فروش مولویوں نے عوام کو مذہب کے نام پر بے وقوف بناکر اکٹھا کر کے ووٹ بینک بنانے کی شروعات کیں ، قرار داد مقاصد سے پہلے پاکستان ایک سیکولر سٹیٹ تھی ، قرارداد مقاصد میں پہلی بار ریاست کو مذہب سے جواڑا گیا ، یہ جناح کے پاکستان کے منافی پہلا قدم تھا۔ جب ملا نے سیکولر طرز سیاست کو غیر مسلم سیاست اور سیاستدانوں کو کافر کے طور پر پیش کیا تو ایک مسلم اکثریتی ملک میں سوشلسٹ پارٹیوں اور سیاستدانوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا، اسی پاکستان میں جہاں اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، ان کی بقا سوشلسٹ پارٹیوں سے ممکن تھی ، پاکستان کی عوام نے اسلام کے نام پر اس سیاست کو دفن کر دیا جو ان کے بہتر مستقبل کی امید تھی ، مفاد پرست ملا نے پھر مکمل اسلام نافذ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اور جب جب موقع ملا پاکستان میں جاگیرداروں ، سیٹھوں اور امریکن میڈ سیاست دانوں کی حکومتوں کے ساتھ الحاق کیا، وقتی حکومتی لوازمات سے مستفید ہوئے اور جیسے حکومت ختم ہوئی دوبارہ سے اسلام کا علم لے کر نکل پڑے- اسلام کی خدمت اور اسلامی مملکت کے قیام کی نیک نیتی کے تحت جماعت اسلامی نےضیاالحق کا خیر مقدم کیااور کاندھے سے کاندھا ملا کر اسلام کی سر بلندی کے لیے کام کیا اور اس کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے ، سیاست کو پرتشدد بنانے کا رواج تب ہی شروع ہوا اور جو جہاد کے نام پر کلاشنکوف بانٹی گئیں اس پر آج تک جماعت اسلامی کی قیادت عوام سے معافی مانگنے اور شرمندہ ہونے کا اعلان کرنے کا ظرف نہیں دکھا پائی-
۱۹۵۱ کے پنڈی سازش کیس کے بعد پاکستان میں لیفٹ کی سیاست کا عملی طور پر خاتمہ ہو گیا، اس کے بعد بھٹو صاحب اسی سوشلسٹ سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے نکلے لیکن حکومت بنانے کے لیے انہوں نے بھی یو ٹرن لے لیا ، اس کے بعد سے آج تک پاکستان کی عوام ایچیسن کی اشرافیہ کی غلام ہے۔ ایچیسن کے یہ شہزادے یوسف رضا گیلانی، ایازصادق، چوہدری نثار, اعتزاز احسن، پرویز خٹک ، شاہ محمود قریشی ، طلال اکبر بگٹی، فواد چوہدری اور عمر ایوب کی شکل میں ہمیشہ سیاست میں رہے ہیں اور انہی مہروں کی وجہ سے نواز شریف اور عمران خان حکومتیں بنا پائے ہیں۔ ایچیسن ایک بریڈنگ فارم ہے جہاں مستقبل کے لیڈر پالے جاتے ہیں اور کاکول میں ان کو قابو کرنے کے لیے سنتری ٹرین کیے جاتے ہیں ، حقانیہ ، بنوریہ اور رضویہ والے اس مقصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں کہ جب ضرورت پڑے جتھے لے کر سڑکوں پر نکلو ، توڑ پھوڑ کرو ، اور مقصد پورا ہونے کے بعد واپس جا کر منبر پر بیٹھ کر لوگوں کو صبروشکر، عذاب قبر اور آخرت کی فکر پر مشغول رکھو۔ یہ پچھلے کئی سال سے ایسا چلتا آ رہا ہے اور جب تک عام آدمی اس “سیٹنگ” کو نہیں سمجھ پائے گا تب تک یہ چلتا رہے گا، کوئی حکومت پاکستان میں عوام کے ووٹ سے نہیں آتی اور کوئی سیاستدان اپنے کیے کی سزا پا کر رخصت نہیں ہوتا ، حکومت تب گرائی جاتی ہے اور سیاستدان تب ہی غدار قرار دیے جاتے ہیں جب وہ اس “سیٹنگ” کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ساری کشتی میں عام آدمی بد زن ہو چکا تھا ، ناامید ہو کر پاکستان چھوڑ کر نکل رہا تھا لیکن اس سال یوم آزادی پر کچھ الگ دیکھنے کو ملا۔ بہت عرصے بعد عوام پرچم لے کر نکلی ہے اور واقعی میں یوم آزدی منایا گیا۔
پاکستانی عوام نے جس جوش اور جذبے سے ۲۰۲۵ کا یوم آزادی منایا ہے اس کی مثال کم از کم پچھلے پچیس سال میں تو نہیں دیکھی گئی، اور یہ جوش اور جذبہ سیاسی اور ملٹری قیادت کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے ، نہیں تو اسی عوام نے یہ الفاظ بھی سنےکہ “ ٹینکوں میں تیل نہیں ہے” “ہم نے امریکا سے امداد لینی ہوتی ہے” اور “ کیا کروں ؟ جنگ کر لوں ؟”۔
ان بیانات کے بعد بہت سے لوگوں نے سوچا ضرور ہو گا کہ پاکستان کو بھی “No First Use” پر دستخط کر ہی دینے چاہیے تھے ، انڈیا ایٹمی طاقت بننے کے بعد بین الاقوامی سطح پر آفیشیلی مان چکا ہے کہ وہ کبھی ایٹمی لڑائی میں پہل نہیں کریں گے ، پاکستان نے دستخط نہ کر کے عالمی سطح پر اپنا امیج خراب کیا ، لیکن جب ضرورت پڑے تو آپ بھیگی بلی بن کر بیٹھ جائیں تو آپ نے دستخط نہ کر کے کون سا تیر مار لیا ؟ پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی کی وجہ کشمیر تھی جو انڈیا آٹے سے بال کی طرح نکال کر لے گیا اور یہ صرف کمزور پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کے مرہون منت ہے۔ آپریشن سندور میں آپ انڈیا کے ملٹری آفیشیلز کی پریس کانفرنس دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کے جواب “بنیان مرصوص” کے بعد ان کے رویے میں کتنی تبدیلی تھی ، آپ کو ن لیگ اور موجودہ عسکری قیادت سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی سلامتی اور بقا پر انہوں نے کوئی آنچ نہیں آنے دی اور عوام یہی خوشی منا رہی ہے۔
آج کل کے انقلابی اور جمہور پسند اکثر نواز شریف کو ضیاالحق کے دور کی پیداوار کہتے نظر آتے ہیں ، نواز شریف نے ضیاالحق کے دور میں سیاسی طور پر قدم جمائے لیکن اس میں کچھ نیا نہیں ہوا ، بھٹو صاحب ، ایوب کو چاچو بنا کر آئے ، عمران خان کیسے آیا یہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، جماعت اسلامی کا ذکر پہلے ہو چکا تو فرق کہاں رہ گیا پھر ؟ ضیاالحق نے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لیےسندھ میں ایم کیو ایم کو بشری زیدی قتل کیس کو بنیاد بنا کر پروان چڑھایا ، پنجاب میں نواز شریف کو آگے کیا ، پنجاب کا وزیر خزانہ بنوایا، اس وقت کی بزنس کمیونٹی میں “ان” کرایا مگر اس کے بعد نواز شریف کی قائدانہ صلاحیتیں تھیں جنہوں نے “آج کے پنجاب” کی بنیاد رکھی، نواز شریف ، ضیاالحق کے مرنے کے بعد تین بار وزیراعظم بن گیا لیکن وہ لوگ جو ضیاالحق کو لے کر آئے اور مشاورت میں شامل رہے وہ ضیاالحق کے جانے بعد کچھ نہیں کر پائے ، نواز شریف بھی اسی راستے آیا جہاں سے باقی سب آتے ہیں ، یہ طعنہ فضول ہے اور بے مقصد ہے۔
نواز شریف بھی عمران خان کی طرح پیپلز پارٹی کو چور چور کہتا ہوا آیا تھا لیکن یہ اس وقت کی ضرورت تھی ، نواز شریف نے اس کے بعد بہت لمبا سیاسی سفر طے کیا بلکہ کہیے کہ یوٹرن لے لیا ، نواز شریف جس فوج کی سواری پر سوار ہو کر آیا تھا ، اسی کو لات مار دی اور پھر پیپلز پارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا ، اس وقت کی ضرورت کے تحت پھر عمران خان دریافت ہوا ، پھر عمران خان چور چور کے شور کے ساتھ ابھرا ، عمران خان بھی اسی دروازے سے آیا ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے سابقہ چوروں کو اس کے ساتھ ملایا گیا اور نئے پاکستان کی تیاری شروع کر دی گئی، جو سفر نواز شریف نے شاید بیس سال لگا کر طے کیا وہ سفر عمران خان چار سال میں طے کرنا چاہ رہا تھا ، شائد عمران خان صاحب کو اپنی عمر کا احساس رہا ہو گا کہ شائد وقت کم ہو ان کے پاس، یہ لمبی جست لگاتے وقت وہ گر پڑے تو اس میں نواز شریف کا پھر بھی کوئی قصور نہیں تھا۔
اور اگر کہیں پر کوئی قصور ہے بھی تو کیا فرق پڑتا ہے ؟ سیاست ہمیشہ طاقت کے حصول کے لیے کی جاتی ہے ، سیاست میں عوام کی خدمت کبھی بھی پہلا مقصد نہیں ہوتا، ن لیگ ہمیشہ سے پنجاب میں ڈیلیور کرتی آئی ہے اور کررہی ہے ، اگر ن لیگ پر ذاتی حملوں کی بجائے کارکردگی پر تنقید کی جائے تو وہ زیادہ بامقصد ہو گی اور شائد اس کا کوئی فائدہ بھی ہو گا، ن لیگ پر تنقید سےعمران خان آزاد نہیں ہو گا ، اور نہ شہباز شریف نے عمران خان کو آزاد کرنا ہے ، عمران خان اور حامی اپنی باری کا نتظار کریں اور کھیل کے اصول کے مطابق چلیں ، شور ، سیاپے اور پٹنے ڈالنے سے کوئی مقصد حل نہیں ہو گا۔
عاقل اعوان