پچھلے چار دن سے پی ٹی آئی کے جوان ٹویٹر پر “گروک” ایک چیٹ بوٹ سے سوال کر رہے ہیں ، وہ موجود ڈیٹا کی بنیاد پر “ڈاکٹر عمر سیف” کے حق میں جواب دیے جا رہا ہے ، آفرین ہے اس ایم آئی ٹی کے سپوت پر جو ان ٹویٹس کو شئیر بھی کر رہا ہے ، تنقید بھی کر رہا ہے اور اپنے تئیں اپنی پاکستان کے لیے کی گئی خدمات بھی گنوا رہا ہے۔
کوئی رائے دینے سے پہلے آئیے زرا اس بحث کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، بے شک عمر سیف پاکستان کا ایک بہترین دماغ ہے ، دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں سے پڑھا ہے اور مجھے یقین ہے آنے والے کئی سو سال تک یاد رکھا جائے گا ، پنجاب آئی ٹی بورڈ ، فری لانسر سپورٹ اور سٹارٹ اپس فنڈ جیسے پروجیکٹ شروع کیے، شاید اپنے کام کی وجہ سے شہباز شریف کی نظر میں آ گیا اور اس کا فائدہ ڈیجیٹل پنجاب کی صورت میں نظر آیا، پی ٹی آئی کی حکومت آئی اور ن لیگ کی تمام نشانیوں کی طرح عمر سیف بھی منظر سے غائب ہو گیا، پی ٹی آئی کی لیڈرشپ جہاں عثمان بزدار جیسا وزیراعلی لگا سکتی ہے وہاں عمر سیف جیسا بندہ کیا کرتا ، خیر عمر سیف کو پٹنا اور سیاپا ڈالنے کو موقع مل گیا کہ مجھے کام نہیں کرنے دیا گیا اور اپنی کمپنی بنا کر بیٹھ گیا۔ ن لیگ کی دوبارہ حکومت بن گئی تو عمر سیف بھی واپس آ گیا ، پی ٹی آئی والے اب یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ عمر سیف نے حکومت کے وسائل پر اپنی کمپنی کھڑی کی ، ناجائز فائدہ اٹھایا وغیرہ وغیرہ۔
اس سے قطع نظر کہ عمر سیف نے پنجاب کے لیے بہت کام کیا اور ایک نئے پنجاب کی واقعی میں بنیاد ڈالی لیکن کیا عمر سیف پاکستان کا ہیرو ہے ؟ میرے مطابق اس سوال کا جواب “نہیں” ہے۔
اس کی دو وجوہات ہیں ، پہلی وجہ عمر سیف کی اپنی فیس بک وال پر موجود اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد آپ پر شائد واضح ہو جائے گی۔

ڈاکٹر صاحب “اپنی ذات میں ایک کائنات”کے مصداق ،اپنے سے باہر ابھی تک سوچ ہی نہیں پائے ، مجھے یقین ہے اگر خان صاحب عمر سیف کو بلا کر کہہ دیتے کہ “مقصود بھائی ! آپ بہت بڑھیا کام کرتے ہیں “ تو عمر سیف ملکی خدمت کے نام پر پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ بھی کام کرتا۔ عمر سیف کی پروفائل پر ایک نظر ڈالیں آپ کو واضح ہو جائے گا کہ عمر سیف ایک اپنی ذات کے گرد گھومنے والی شخصیت ہے اور ہر کامیاب آدمی شائد تھوڑا خود غرض ہوتا ہے ، وہ ایدھی یا خان عبدالغفار نہیں ہے جو بغیر کسی اجرت ، مشہوری اور قیمت کے کام کرے لیکن وہ جو بھی کام کریں گے وہ اپنی ذات کو آگے رکھیں گے
پی آئی ٹی بورڈ میں نے بنایا
ڈیجیٹل پنجاب میں لایا
ایم آئی ٹی ، یونیسکو اور برٹش کونسل کے ایوارڈ جیتے
مان لیا بھائی کہ “سب سے پہلے تو ہی آیا” لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے کیا لایا ؟
عمر سیف صاحب انتہائی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی ساری کی ساری تگ ودو ، واہ واہ ، شاہ سرخیاں ، ایوارڈز اور بلے بلے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، آپ نے اندھوں میں کانا راجہ بننے پر اکتفا کر لیا ہے ۔ آپ کے نزدیک سروسز اور آؤٹ سورسنگ کمپنیز “جھک” مار رہی ہیں ؟اگر ایسا ہےتو سسٹمز لمیٹڈ والوں کو گھر بھیج دیں ؟5000-10000 بندہ بے روزگار کر دیں ؟ سالانہ دو سو ملین ڈالر آتا ہے اس کو کدھر سے پورا کرنا ہے ؟ صرف اعداوشمار کے لیے عرض ہے کہ سسٹمز لمیٹیڈ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی ایکسپورٹ کمپنی ہونے کے باوجود صرف ایک انڈین کمپنی Infosys سے دو سو گنا پیچھے ہے ؟ وجہ یہی آپ جیسے لوگ ہیں جن کو یہ کام غیر دلچسپ لگتا ہے-
آپ اگر یہ گھٹیا کام خود نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک مینیجر رکھ کر حاتم طائی کی قبر پر گل فشائی کر دیتے ، ۲۰۰-۳۰۰ جوانوں کو روزگار مل جاتا، وپرو یا انفوسس پہلے دن سے اتنے بڑے اژدھا نہیں تھے ، وپرو نے آئل بنانے سے شروعات کی تھی ، بدقسمتی یہ تھی کہ پارسی اکثریت انڈیا میں تھی نہیں تو کیا خبر کوئی گتا بنانے والی فیکٹری آج پاکستان میں انٹیل کے چپ بنا رہی ہوتی۔
دوسری شیخی ملاحظہ ہو

ڈاکٹر صاحب بہت مبارک ہو ، اللہ تمام والدین کو ایسی خوشیاں دے۔
مجھے دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عمر سیف کو میرے پہلے والے اعتراض کی خبر نہیں ہے۔
مان لیجیے کہ ایم آئی ٹی نے پچھلے تیس سال میں اگر پاکستان سے کسی کو نہ رکھ کر جو نقصان کیا ہے ، اس کا دگنا نقصان ڈاکٹر صاحب کے برخوردار کو رکھ کر انہوں نے کر دیا ہے ، مطلب اگلے تیس سال بھی پاکستان میں سوائے شیخی بگھارنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔
اگر ڈاکٹر عمر سیف سے آدھی قابلیت اور مواقع کا چوتھا حصہ بھی کسی “وژنری” انسان کو مل گیا ہوتا ، جس کو اپنی امپائر کھڑی کرنے سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی کہ ساتھ والے انڈیا میں بنگلور آئی ٹی ہب بن گیا ہے ، اس کا توڑ نکالنا ہے ، مارکیٹ میں مقابلے کی فضا لانی ہے تو آج حالات مختلف ہوتے ، آج بنگلور میں گلی گلی میں سافٹ وئیر ہاؤس اور بی پی او کھلے ہیں لیکن کوئی اس پر “چوڑا” نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر صاحب کو حکومت میں بھی جب موقع ملا تو کوئی ایسا منصوبہ نہیں لایا جو دیر پا ہوتا ، جس کا اثر پورے پاکستان پر ہوتا ، حضور لاہور ہی پاکستان نہیں ہے ، پاکستان کو کم از کم روڈمیپ ہی دے جاتے جو کسی رستے لگا جاتا ، آپ کے بعد آنے والے بتا رہے ہیں کہ فائروال سے انٹرنیٹ سلو ہو گیا اس لیے ان سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے۔
پی ٹی آئی والوں کو ڈاکٹر صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ جب ان کو موقع ملا تو وہ کوئی ایسا دس بیس سالہ منصوبہ عوامی طور پر سامنے رکھنے میں کیوں ناکام رہے ؟ اگر ایسا کیا ہے تو اب بھی اس کا ریفرنس دے کر بات کریں ، سیاسی ورکرز کی طرز پر الزام تراشی نہ کریں۔
پوچھنا چاہیے کہ عمر سیف جیسی شخصیت جب سروسز اور آؤٹ سورسنگ سیکٹر کو “غیر دلچسپ” کہے گی تو اس کا پاکستان کی آئی ٹی کی صنعت پر کیا اثر ہو گا ؟ کیا عمر سیف جیسے لوگ آنے والے وقت میں بھی پاکستان میں کسی Infosys کا وجود نہیں دیکھ رہے ؟
عمر سیف سے پوچھنا چاہیے کہ آپ کے گلوبل کنٹیکٹس اور گلوبل ایکسپوژر کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوا ؟ آپ اپنے سٹارٹ اپ کے لیے بل گیٹس سے اگر انویسٹمنٹ لے سکتے ہیں تو پاکستان کے لیے کیوں نہیں ؟
because that’s not exciting?
ڈاکٹر صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ کیا آپ ٹیکنوکریٹ ہیں ؟ بیوروکریٹ ہیں ؟ سیاسی ورکر ہیں ؟ بیورکریٹ دو سال سے زیادہ کا نہیں سوچتا کہ اس کے بعد تبادلہ ہو جائے گا اور اگر بیوروکریٹ حمزہ شفقات جیسا ہو تو دو سال علاقے میں مشہور بھی ہو جاتا ہے ، خبروں میں بھی رہتا ہے اور ہیرو کی طرح رخصت ہوتا ہے اور ٹھیک دو سال کے بعد ہر چیز واپس وہیں پر آ جاتی ہے۔ سیاستدان ہو تو پانچ سال سے زیادہ کا نہیں سوچتا ، اور اگر پانچ سال کا بھی سوچتا ہے تو راولپنڈی سے گزر کر اسلام آباد پہنچتا ہے نہیں تو ان جڑواں شہروں میں اس کے جوڑ جواب دے جاتے ہیں ، اگر آپ ٹیکنوکریٹ ہیں تو آپ کو کم از کم پچاس سال کا سوچنا چاہیے تھا ، آپ کی یہ سوچ کہ اس پاکستان میں ، اس کمرے میں “میں” ہی سب سے زیادہ ذہین ہوں “، وہ ہم کو کچھ نہیں دے گی ، معذرت کے ساتھ ملک تمغوں اور شیلڈ پر نہیں چلتے ، عوام کو نوکریاں چاہیے ہیں ، روزگار سے چولہا جلے گا, آپ کو اگلی بار جب بھی موقع ملے تو امید ہے آپ اپنی ذاتی اپروچ ، پسند نا پسند سے نکل کر وسیع تر عوامی مفاد کا سوچیں گے۔
عاقل اعوان