جناب صدر ، معزز اساتذہ کرام اور میرے ہم مکتب ساتھیو !
آج میں جس موضوع پر طبع آزمائی کروں گا اس کا عنوان ہے
میرا سکول
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
ممکن ہے یہ آپ نے اسی طرح پڑھا ہو جیسے کبھی ہم سکول کے سٹیج پر تقریر کا آغاز کیا کرتے تھے۔
عین ممکن ہے کہ یہ پڑھنے کے بعد میرے محترم اساتذہ کرام کو کوئ بات ناگوار گزرے تو میں پیشگی معزرت چاہتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ جیسے میرے زمانہ طالبعلمی میں انہوں نے کئی بار درگزر کیا ، ایک بار پھر مسکرا کر نظرانداز کر دیں گے۔
سرکاری سکولوں میں نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی نئے تعلیمی سال کاآغاز ہو چکا ہے ، شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلی کے دورانیے میں جہاں اور کئی چیزیں محکمہ تعلیم میں متعارف کرائیں وہیں انہوں نے ٹاٹ سکولوں کے خاتمے ، اساتذہ کی یقینی حاضری اور داخلے کا تناسب بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے، سرکاری سکولوں کے سٹاف کو باقاعدہ پریشرائز کر کے داخلے کا تناسب بڑھانے کا کہا گیا ، اس سال میرے استاد محترم ،میرے مادر علمی گورنمنٹ ہائی سکول سنگوالہ کے ہیڈماسٹر حافظ عبدالنصیر صاحب نے سابقہ طلباء کو سکول کونسل میں شامل ہونے کے لیے درخواست دینے کے لیے کہا اور داخلہ کمپین میں بھی شامل ہونے کی دعوت دی، میرے بھائی سبطین عباس صاحب نے طلباء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ داخلے کا پیغام ہر گھر تک لے کر جائیں لیکن اگر آپ کو پتہ ہے کہ آفاق نے خود میٹرک پنجاب کالج سے کی ہے ، انیب بھی اب جا چکا ہے تو شائد آپ کے ذہن میں یہ بات آئے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے ، شائد آپ کو پتہ بھی نہ ہو اور شائد یہ آپ کے لیے اہم بھی نہ ہو ، ممکن ہے آپ سامنے آ کر یہ سوال بھی نہیں کریں گے لیکن اس پر بات کرنا ضروری ہے،کیونکہ جب تک مسئلے پر بات نہیں ہو گی تب تک مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، کسی نہ کسی کو تو ان چیزوں پر بولنا ہے تو میں ہی شروعات کر دیتا ہوں ۔
یہ باتیں میں ایک بھائی ہونے کی حیثیت سے نہیں ، اسی آبادی کا حصہ ہونے کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اس لیے وہی کچھ لکھ رہا ہوں جو مجھے سمجھ ہے ، کیونکہ اگر بھائی صاحب سے پہلے اس مدعے پر بات ہو جاتی تو رائے نیوٹرل نہ رہتی ، اس تضاد کو سمجھنے کے لیےضروری ہے کہ آپ فرض کریں کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ میٹرک سے آگے پڑھے ، اگر سائنس پڑھنی ہے تو انگلش میڈیم میں آسانی سے ایڈجست ہو جائے ، اس کی صلاحتیں تعلیم پر صرف ہوں بجائے اس کے کہ وہ پنجابی میں سوچے ، پھر اسے اردو میں لکھے ، اور پھر اردو سے انگلش میں ترجمہ کر کے سمجھنے اور یاد کرنے کی کوشش میں لگا رہے تو آپ کی بھی کوشش یہی ہو گی کہ بچہ میٹرک انگلش میڈیم میں ہی کرے۔
اس موضوع پر لکھتے وقت جو بنیاد ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہمارے گورنمنٹ ہائی سکول سنگوالہ کے طلباء اچھے نمبروں سے میٹرک کرنے کے بعد آگے تعلیم جاری کیوں نہیں رکھ پاتے ؟ اگر آپ پچھلے دس سال کا ریکارڈ بھی چیک کر لیں تو جن بچوں نے اسی فی صد نمبروں سے میٹرک کی ہو گی ان میں سے دس فی صد بھی گریجوایشن نہیں کر پائے ہوں گے۔ یہ بچے اچانک سے دل ہار جاتے ہیں ؟ پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں ؟ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ضروری ہیں۔
داخلہ کمپین میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے سکول میں بہترین تعلیم یافتہ سٹاف موجود ہے ، سائنس لیب کی سہولت ہے ، کمپیوٹر لیب کی سہولت ہے ، لائبریری ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی نسبت بہتر تعلیمی ماحول ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بہترین کوالیفائیڈ اساتذہ موجود ہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ اوور کوالیفائیڈ سٹاف موجود ہے لیکن مجھے جہاں تک علم ہے سائنس لیب اور لائبریری کا سامان تو موجود ہو گا ، عملی طور پر ان کا وجود نہیں ہے ، سامان تو اس وقت بھی موجود تھا جب ہم میٹرک میں تھے ، پریکٹیکل میں نمبر ہم سب کے پورے تھے لیکن عملی طور پر ہمیں کسی چیز کا علم نہیں تھا ، جماعت دہم کے کلاس روم کے اندر جو ایک سٹور تھا وہاں سامان بند تھا اور اگر ابھی اسی سٹور کو بطور سائنس لیب استعمال کیا بھی جا رہا ہو گا تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا، پنجاب حکومت سے الگ لیب بنوانے کے لیے شائد دس سال مزید لگ جائیں ، لائبریری کا تو وجود ہی نہیں ہے ، کتابیں بک شیلف میں تب بھی بند تھیں اور آج بھی شائد اسی طرح بند ہوں گی ، جب تک سکول کے اندر باقاعدہ لائبریری نہیں ہے جہاں طلباء جا کر اپنی مرضی سے بیٹھ کر پڑھ سکیں ، کتابیں حاصل کر سکیں میرے خیال میں تب تک یہ دعوی درست نہیں ہے، میں پرائیویٹ سکولوں پر تنقید نہیں کروں گا کیونکہ وہ ان چیزوں کے دعویدار ہی نہیں ہیں ، میری ناقص رائے کے مطابق پرائیویٹ سکول میں لوگ اپنے بچے صرف اس لیے بھیج رہے ہیں کہ ان کو لگتا ہے سرکاری سکول میں رش زیادہ ہے ان کے بچے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی ، صرف اس ایک چیز پر پرائیویٹ سکول چل پا رہے ہیں ، ان کا سٹاف بے شک ایف اے پاس ہے مگر وہ ڈرائنگ کے نام پر بچوں کو الٹی سیدھی لکیریں لگانا سکھا دیتے ہیں ، بچوں کو ایک دو “پوائم” یاد کرا دیتے ہیں ، رزلٹ والے دن وہ ہر بچے کو سٹیج پر کچھ نہ کچھ کرنے کا موقع دیتے ہیں ، سٹاف چونکہ اردو میں بات کرتا ہے تو اردو میں بھی ان کی روانی بن جاتی ہے، کل ملا کر پرائیویٹ سکول آڑھی ترچھی لکیروں ، پوائم ، سٹیج ایکٹویٹی اور روزانہ کی بنیاد پر کاپی پر سٹار لگا کر چل رہے ہیں۔ گورنمنٹ سکول میں کبھی ہفتہ وار بزم ادب ہوتا تھا جو کہ اب ختم ہو چکا ہے ، والدین کو اپنے بچوں کی ایکٹویٹی نظر ہی نہیں آ رہی ، آپ بے شک ان بچوں کو پوری کتاب پڑھا دیں چھ ماہ میں ، والدین مطمئن نہیں ہوں گے۔ ہم اکثر پرائیویٹ سکول پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سب کو پوزیشن دے دیتے ہیں ، مان لیا وہ والدین کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہوں گے لیکن یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تمام والدین اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ، آپ اپنی کلاس میں نظر دوڑائیں آپ مان جائیں گے کہ ہر بچہ کسی ایک چیز میں پورے سو نمبر کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ، آٹھویں تک ہم نے اگر سارے بچے پاس کرنے ہی ہیں تو ہر بچے کا وہ ایک مضمون ، وہ ایک سکل ، وہ ایک فن تو اتنا پالش کر دیں کہ والدین رزلٹ ڈے پر خوش ہو جائیں ، آپ کو داخلہ کمپین کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
آپ فرض کریں کہ آپ نے دس سال لگا کر اپنے بچے کو کبڈی سکھائی اور بچہ اپنے گاؤں میں کبڈی کا چیمپئن بن گیا ، بچے سے زیادہ آپ خوش ہو جائیں گے ، مبارکبادوں کا رش ہو گا ، مٹھائیاں ہوں گی اور بھنگڑے ہوں گے لیکن اگلے دن یہ خوشیاں اجڑ جائیں گی ، رنگ میں بھنگ پڑ جائے گی جب بچہ گاؤں سے شہر جائے اور کسی بات پر ان بن ہو جائے ، لڑائی ہو جائے اور اس سے پہلے کہ آپ کا بچہ کوئی داؤ آزمائے سامنے والا ایک سیکنڈ میں فائر مار دے، سوچیں آپ پر کیا گزرے گی ؟ میں وہی بچہ تھا جو گورنمنٹ ہائی سکول سنگوالہ میں میٹرک میں پہلی پوزیشن لے آیا تھا ، لیکن کالج میں پہلے سہہ ماہی نتائج میں ہوا نکل گئی تھی ، کیونکہ لڑائی کے اصول مختلف تھے، میں دس سال جس تعلیمی نظام میں رہا تھا ، اس کا تجربہ میرے کام نہیں آ رہا تھا۔ میں اردو میڈیم سکول کا پڑھا ہوا ، راولپنڈی بورڈ کے مارکنگ سسٹم سے نکل کر ۹۲۰ نمبر لے آیا تھا لیکن ایف ایس سی انگلش میں تھی اور فیڈرل بورڈ کے پیٹرن پر تیاری کرنا تھی جو کہ سونے پر سہاگہ تھا ، ہم راولپنڈی بورڈ کے پانچ لوگ تھے اپنی کلاس میں اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ، بہت مشکل سے ایڈجسٹ ہو پائے تھے کہ امتحان سر پر آ گئے (میرے کالج کے ٹیچرز میرے ساتھ فیس بک پر موجود ہیں اگر پڑھیں اور یاد کر پائیں تو میری درخواست ہے کہ وہ اس پر رائے دیں ) میں اس بات کو ماننے پر تیار ہی نہیں تھا کہ جو میٹرک میں ۹۲۰ نمبر لے کر آیا ہوں وہ ہر ماہ ، ہر مضمون میں فیل بھی ہو سکتا ہوں ، میں اپنے ٹیچرز سے باقاعدہ بحث کرتا تھا کہ انہوں نے غلط نمبر لگائے ہیں لیکن ان کی شفقت تھی کہ کبھی غصہ نہیں کیا ، ہمیشہ گائیڈ کیا کہ فیڈرل بورڈ میں کیسے پیپر دینے ہیں ، خیر بات لمبی ہو جائے گی ، میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ سنگوالہ سکول میں بچے آج بھی اردو میڈیم میں پڑھ رہے ہیں ، ہمیں اپنی قومی زبان سے بہت پیار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہر بچہ ایف ایس سی کرنا چاہتا ہے ، ایف ایس سی تو انگلش میں ہے ، جب بچہ ایف ایس سی شروع کرتا ہے تو پھر اس کو سمجھ نہیں آتی ، پہلے سال میں بد دل ہو کر گھر بیٹھ جاتا ہے ،بچہ اچھا خاصا لائق اور قابل ہونے کے باوجود تعلیمی نظام میں پھنس کر آگے پڑھ نہہں پاتا، ہم اس پر خاموش کیسے رہ سکتے ہیں ؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ کم از کم میٹرک میں اردو میڈیم اور انگلش میڈیم سیکشن ہونے چاہیے ، بچوں کو مناسب گائیڈ کیا جانا چاہیے تا کہ کل کو ان کا نقصان نہ ہو ، جس بچے کا سائنس میں رجحان نہیں ہے اس کو پہلے دن سے پتہ ہو تا کہ وہ اس طرف نہ جائے جہاں سے وہ بد دل ہو کر اپنا مستقبل تباہ کر بیٹھے ، آرٹس پڑھ کر بھی وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں ، لیکن مناسب گائیڈ لائن نہ ملنے پر بچے میٹرک سے آگے نہیں جا پا رہے۔
یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہمارے سکول میں رقبہ کی کمی کے باعث کھیل کے میدان نہین بن سکتے تھے مگر والی بال ، بیڈمنٹن ، کرکٹ اور فٹ بال کے لیے گاؤں میں موجود میدان سکول سے زیادہ دوری پر نہیں ہیں , اس کے باوجود بدقسمتی سے سکول انتظامیہ نے کبھی کھیلوں کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے ، کئی جگہ دیکھا ہے کہ سکول سے بریک کے وقت / فری ٹائم یا فزیکل ایجوکیشن کے لیے مخصوص اوقات کار میں بچے اپنے ٹیچر یا انسٹرکٹر صاحبان کی نگرانی میں سکول سے باہر کھیلنے جاتے ہیں ، جس سے ہر بچے کو ایک محفوظ اور نیوٹرل ماحول میں فزیکل ایکٹویٹی کا موقع ملتا ہے، بد قسمتی سے اب تو سکول میں پی ٹی ای کی سیٹ ہی ختم کر دی گئی ہے لیکن جب پی ٹی ای صاحب موجود تھے ہم اس وقت گراؤنڈ میں لگے پودوں کو پانی لگایا کرتے تھے ، سکول میں کھیلوں کے فروغ میں عدم دلچسپی کے باعث ایک تو سکول کبھی کھیلوں کے مقابلوں میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکا اور دوسرا اس کا نقصان یہ ہوا کہ کھیل چند گھروں تک محدود ہو گئے ، اگر کوئی بچہ ہمت کر کے ( وہ بچے جن کو گھروں میں کھیلنے جانے پر باقاعدہ مار پڑتی ہے ) کھیلنے چلا بھی جاتا ہے تو وہاں اس کو موقع ہی نہیں ملتا ، چند ایک لوگوں کے علاوہ آپ کو کھیلوں میں باقاعدہ محلوں ، قوموں اور برادریوں کی اجارہ داری نظر آئے گی ، بچوں کو سکول میں جب کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی ہی نہیں کی گئی اور موقع ہی نہیں دیا گیا تو ایسے ماحول میں سکول یہ تو دعوی کر سکتا ہے کہ دوڑنے کے لیے جگہ موجود ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ جسمانی صلاحیتوں کو نکھارنے کا مکمل انتظام موجود ہے۔
اگر یہ پڑھ کر آپ کو ایسی بو آئے کہ میں کامیابی پر لیکچر دے رہا ہوں تو ایسا ہر گز نہیں ہے ، میں نے میٹرک میں جو پہلی پوزیشن لی تھی وہ صرف انا پر ایک کاری ضرب کا نتیجہ تھی ، میرے بھائی صاحب نے ہی آٹھویں جماعت میں ایک دن گراؤنڈ میں لتر پریڈ کی تھی جس کے بعد میں نے سوچا تھا کہ اب پڑھنا ہے ، لہذا یہ مت سمجھیے کہ میں کوئی ذہین طالبعلم تھا یا میں اپنی زندگی میں کوئی بہت کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ چکا ہوں ، مجھے ڈگری کرنے کے سات سال بعد آئی ٹی میں جاب ملی ہے ، ایک سال تو نکل گیا ہے ، آگے دیکھیے کہاں تک چلتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میرے استاد ، میرے بھائی اور گورنمنٹ ہائی سکول سنگوالہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جانے والی شخصیت ملک احمد خان صاحب نے جب بھی سٹیج پر آ کر کوئی بات کرنا ہوتی تھی تو آغاز قرآن پاک کی جس آیت سے کرتے تھے اس کا ترجمہ تھا
“اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہو گا جس کی اس نے کوشش کی”
اور انہوں نے یہ اتنی بار دوہرائی کہ یہ بات لاشعور میں بیٹھ گئی ہے، میری ان باتوں کا قطعی مقصد تنقید برائے تنقید نہیں ہے ، میں نے ان چیزوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھا اور مقصد یہی ہے کہ آئیں بہتر کل کے لیے کوشش کرتے ہیں ، اگر سنگوالہ ہائی سکول میں رقبہ ، بلڈنگ ، فرنیچر اور ضرورت پڑنے پر سٹاف بھی اپنی مدد آپ کے تحت پورا کیا جا سکتا ہے تو یہ کوئی اتنا بڑا چیلنج نہیں ہے ، اس حقیقت سے بھی نظر نہیں چرائی جا سکتی کہ بہت سارے بچے ایسے ہوں گے جو اردو میڈیم میں میٹرک بھی بمشکل کرتے ہیں تو اردو میڈیم کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے انگلش میڈیم بھی متعارف کرائیں ، سکول کا موجودہ گراؤنڈ تھوڑی سی محنت سے فٹ بال کے لیے بہت موزوں گراؤنڈ بنایا جا سکتا ہے اور دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی مستقبل کی پسندیدہ گیم فٹ بال ہو گی ، پچھلے چند سال میں اپنے علاقے میں فٹ بال کی مقبولیت میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، کرکٹ کے لیے بنی گراؤنڈ موجود ہے ، تھوڑی سی سرپرستی اور دلچسپی کی ضرورت ہے ، اگر سکول کی دو چار ٹیمیں بنا دی جائیں تو ممکن ہے ایس پی ایل سے پی ایس ایل تک کا سفر آسان ہو جائے ، سکول کونسل کے متوازی سپورٹس کونسل بنائی جائے جو کھیلوں کے انعقاد ، اور باقی تمام معاملات میں معاونت کرے، بزم ادب جیسی سرگرمیوں کو واپس لایا جائے اور بچوں کو تخلیقی سرگرمیوں کا موقع دیا جائے، چکوال کے ہی اک سکول میں پچھلے دنوں نثار قادری ڈرامیٹک سوسائیٹی کا افتتاح کیا گیا ۔ نثار قادری “ماچس ہو گی آپ کے پاس” جیسے عام سے ڈائیلاگ کو امر کر گیا، کیا خبر اس کی یاد تازہ کرنے والے کیا کیا کریں گے۔ بچوں کو اپنی کلاس ، اپنے سکول اور ان کے موافق ماحول سے باہر نکال کر مقابلے میں لانا بہہت ضروری ہے۔ گورنمنٹ پنجاب سکولوں کو داخلے زیادہ سے زیادہ کرنے پر تو مجبور کر رہی ہے مگر بچوں کے لیے مواقع کم سے کم کرتی جا رہی ہے ، اس کام کے لیے بھی خود ہی آگے آنا پڑے گا۔ سنگوالہ ہائی سکول کو پہل کرتے ہوئے تحصیل سطح پر میتھیمیٹکس اولمپیاڈ کی بنیاد ڈالنی چاہیے ، بچوں میں مقابلے اور ہار جیت کی فضا بنے گی تو کل کے لیے بہتر تیار ہو پائیں گے۔ سابقہ ایم این اے سردار فیض ٹمن نے پچھلے دنوں فیس بک پر پوسٹ کی کہ ان کا بیٹا ٹیکساس کے ہائی سکول کی فٹ بال ٹیم میں منتخب ہو گیا ہے ، بہت خوشی کی خبر تھی لیکن اسی وقت میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ فیض صاحب نے اپنے دور میں اپنے حلقے میں کتنے گراؤنڈ بنوائے ؟ مجھے جواب نہیں مل سکا کیونکہ ہمارے بچے ہمارے حکمرانوں کی ترجیح نہیں ہیں ، لوکل ٹورنمنٹ میں ہم ان کو پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور یہ ٹورنامنٹ کمیٹی کے ساتھ “تعاون” کر کے نکل جاتے ہیں – ہمیں جو کرنا ہے خود کرنا ہے اور وہی کچھ ملے گا جس کے لیے ہم کوشش کریں گے۔
جو تجاویز میں نے دی ہیں ، اگر سکول کونسل یا سکول انتظامیہ ان میں سے کسی بھی تجویز کو قابل عمل سمجھے تو انشااللہ اس کو سر انجام دینے کے لیے میں ہر مرحلے پر ہر طرح سے ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں گا۔
عاقل اعوان