آپ کے دادا کے کتنے فالوور تھے ؟

سوچیے اگر آج سے پچاس سال بعد آپ کا پوتا آپ سے پوچھے کہ آپ کے یوٹیوب پر کتنے فالوورز ہیں تو کیا جواب دیں گے ؟ اگر آپ کے خاندان میں کوئی ایک یوٹیوبر ہے تو پھر تو یہ سوال آپ کی ناک کاٹنے کے مترادف ہو گا اور شائد آپ بچے کو وہاں سے بھگا دیں گے۔

رشی کپور نے ایک مووی میں بولا تھا کہ آنے والا وقت یاتو پیسے کا ہے یا پاور کا ہے تو ان میں سے مجھے اک تو لازمی چاہیے ، مووی شائد پرانی ہے اور وقت بدل گیا ہے۔ اب موجودہ وقت صرف پیسے کا ہے اور آنے والے وقت میں بھی پیسہ کم از کم کھیل میں شامل رہے گا، پہلے پیسہ کمانے کے لیے محنت کرنی پڑتی تھی , کاروبار کرنے کے لیے بھی کسی کے پاس جا کر کام سیکھنا پڑتا تھا ، تھوڑا یا زیادہ وقت لوگ سر نویڑے محنت کرتے تھے تب کچھ حاصل ہوتا تھا، لیکن شارٹ کٹ اس وقت بھی موجود تھے، ان شارٹ کٹس کو معاشرتی طور پر اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، گھر کے افراد کے علاوہ محلے کے بڑے بزرگ بھی خاص نظر رکھتے تھے اور ضرورت پڑنے پر خصوصی اختیارات کا استعمال بھی کرتے تھے اس لیے کوئی شریف آدمی پیسہ کمانے کے لیے ان شارٹ کٹس کا استعمال نہیں کرتا تھا اور اگر کرتا تھا تو کم از کم معزز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اب اس لحاظ سے بھی وقت بدل گیا ہے ، اب ذہن سازی کر دی گئی ہے کہ غریب ہونے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ، امیرہونے کے لیے تو غپلے کرنے ضروری ہیں۔ اب معاشرتی اقدار اس قدر کمزور ہو چکی ہیں کہ جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے معاشرے میں اس کی اتنی قدر ہے اور یہ جانے بغیر کہ اس کا ذریعہ آمدن کیا ہے وہ معاشرے کے لیے رول ماڈل ہے۔ اب یوٹیوب اور ٹک ٹوک کے آنے کے بعد ایک نیا انقلاب آیا ہے اور وہ سالہا سال کی معاشرتی گھٹن اور اقدار کو ایک ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔ اب یوٹیوبر اور ٹک ٹوک سٹار باقاعدہ ٹی وی شوز میں مدعو ہوتے ہیں ، جہاں کبھی اپنے شعبہ کے بہترین لوگ آ کر گفتگو کرتے ہوں گے اب وہاں ایک ایسا آدمی یا عورت بیٹھی ہے جس کی سب سے بڑی قابلیت یہ ہے کہ وہ کیمرے سے شرماتے نہیں ہیں۔جب وہ ہر وقت کیمرے کے سامنے ہیں تو ظاہر ہے وہ ہر وقت کوئی فلسفہ یا سائنس تو سکھا نہیں رہے وہ وہی کچھ دکھا رہے ہیں جو عوام کی اکثریت دیکھنا چاہتی ہے، جس کام کے لیے پہلے وی پی این استعمال ہوتا تھا اب وہ کھلے عام دستیاب ہے بے شک ذرا ہلکی آنچ پر مگر نشہ پورا کر رہا ہے۔ یوٹیوب اور ٹک ٹوک کے آنے کے ساتھ کامیابی کے پیمانے بدل دیے گئے ہیں اور سب سے بڑا ظلم ان کے ساتھ ہوا ہے جو اس سوچ کے ساتھ بڑے ہوئے کہ پڑھ لکھ کر، محنت کرکے معاشرے میں اپنا آپ منوا ئیں گے مگر ذہنی طور پر اتنے مظبوط واقع نہیں ہوئے کہ اب اپنے سے کم پڑھے لکھے ، غیر تربیت یافتہ لوگوں کو اپنے سے زیادہ مشہور اور پیسہ کماتا دیکھ سکیں تو اب وہ مایوس ہوتے ہیں۔ آج کل یوٹیوب اور ٹک ٹوک کی ریل پیل دیکھ کر زیادہ متاثر وہ لوگ ہورہے ہیں جو تقریباپچیس، تیس سال کے آس پاس ہیں ، بہت محنت کر کے کوئی ہنر سیکھ پائے ہیں ، کوئی جاب لے سکے ہیں یا کوئی کاروبار اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکے ہیں۔ جب یہ لوگ یوٹیوب اور ٹک ٹوک پر پیسے کی ریل پیل دیکھتے ہیں تو شائد سوچتے ہیں کہ انہوں نے غلط ٹرین پکڑ لی ، جیسے ان کے دادا نے ۱۹۵۰ میں ۱۰۰ روپے میں سڑک کے ساتھ والی زمین نہ لے کر بے وقوفی کی تھی شائد ان کی آنے والی نسل بھی ان کو یوٹیوبر اور ٹک ٹوک سٹار نہ بننے پر آج سے ستر سال بعد کوس رہی ہو گی۔ شائد ہم نہیں دیکھیں گے لیکن ممکن ہے آنے والے وقت میں لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اس کے دادا کے یوٹیوب پر کتنے فالوورز تھے ؟ آج بھی تو کچھ پوچھتے ہیں کہ ان کی کتنے مربع زمین ہے ؟ کتنی موروثی ہے ؟ کتنی زر خرید ہے ؟ ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں لوگ پوچھیں گے کہ آپ کے چینل پر کتنے ایکٹو ویورز ہیں ؟ ہو سکتا ہے آرٹیفیشیئل انٹیلیجئینس اتنی آگے نکل جائے کہ لوگ ثبوت لے کر آ جائیں کہ ان کے اتنے اصل فالوورز ہیں ، نہیں تو کلک فارمز کا کام تو بہت عرصے سے چل رہا ہے ، بوٹس بھی ہیں اور فیک اکاؤنٹس بھی پرانی بات ہے لیکن ممکن ہے آنے والے وقت میں یہ ویورز ، فالوورز اور لائیکس کسی کے خاندانی ، اصیل ، نسلی اور جدی پشتی رئیس ہونے کے ضامن ٹھہریں۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس تیس سال کے آس پاس کے لوگ اپنے آپ کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ترک کریں ، اپنے آپ پر یقین کریں۔ سرمائے اور غریب کے درمیان ہمیشہ پیداوار کے ذرائع حائل رہے ہیں، جب پیداوار کے ذرائع کھیت، کارخانہ اور صنعتکاری تھے تب غریب آدمی مزارع، مزدور اور ملازم تھا۔ غریب آدمی کے پاس سوائے محنت کے اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اس جاگیردار، ٹھیکیدار اور سیٹھ کی غلامی سے نکل سکے، اس کے متوازی حکومت کی ملازمت تھی یا اپنا ٹھیلہ ، تھڑا اور ریڑھی تھی۔ اب پیداوار کے ذرائع بدل چکے ہیں ۔ اب ڈیجیٹل دور ہے تو پیداواری صنعت پھیل گئی ہے۔ پہلے وقتوں میں منڈی میں وہی دکان زیادہ چمکتی تھی جو ادھار دیتے تھے ، بیج اور کھاد ایڈوانس دے دیتے تھے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ کوالٹی بھی اچھی دیتے تھے ، کمیشن کی رقم جائز ہوتی تھی ، وہ لوگوں کے لیے وقتی فائدے کا بندوبست کر دیتے تھے تو انکی دکان اچھی چل جاتی تھی اور وہ کسان کو اس چکر میں ایسا پھانستے تھے کہ کبھی کسان مکمل ادائیگی نہیں کر پایا۔ آج کل بھی یوٹیوب اور ٹک ٹوک پر کچھ دکانیں بہت اچھی چل رہی ہیں لیکن ان کی دیکھا دیکھی آپ نے ہرگز یہ نہیں سوچنا کہ آپ نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔  اگر آپ نے دیکھا دیکھی اس نئی صنعت میں داؤ لگانا ہی ہے تو میں مشورہ دوں گا کہ بجائے منڈی میں دکان کھولنے کے ، نئی منڈی کھولیں ، یوٹیوب ، ٹک ٹوک طرح کی کوئی نئی ایپ لے آئیں۔ ٹویٹر پر پچھلے کچھ عرصے میں کچھ تبدیلیاں ہونے کے بعد “بلیوسکائی” نام سے نئی ایپ کافی حدتک کامیاب ہو گئی ہے۔ پاکستان میں یوٹیوب اگر بین ہو سکتی ہے تو ٹک ٹوک بھی بین ہوتے دیر نہیں لگے گی بس ابھی اس طرف مالکوں کا دھیان نہیں آیا۔مشہوری کا بھرم عمران خان سے زیادہ کسی کو نہیں تھا، ڈیڑھ سال سے اگر وہ پابند سلاسل ہے اور عوام چپ ہے تو جس دن ضرورت پڑے گی سوشل میڈیا کی انڈسٹری ہی گول کر دی جائے گی، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چونکہ اس سے ایک اچھا زر مبادلہ ملک میں آ رہا ہے تو حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے، اگر آپ نے نئے سرے سے اک شروعات کرنی ہی ے تو منڈی کھولیں ، بروکر مت بنیں کیا خبر آپکی منڈی زیادہ اچھی چل جائے لیکن جو کر رہے ہیں وہ مت چھوڑیے وہ آپ نے بڑی محنت سے حاصل کیا ہے اور جو آپ نے زندگی کے ۲۰،۲۵ سال لگا کے حاصل کیا ہے وہ کم از کم اب کوئی صرف ۱۰ملین فالوورز دے کر تو حاصل نہیں کر سکتا۔

جو بچے اور بچیاں ابھی پڑھ رہے ہیں اور کچی عمر میں جب سنتے ہیں کہ پڑھ لکھ کے کچھ بننا ہے اس کے علاوہ کامیابی کا اور کوئی راستہ نہیں ہے اور کالج جا کر جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب دبلا پتلا سا لڑکا ، سدھو موسے والے کے گانے لگا کر ٹک ٹوک بناتا ہے تو لاکھوں ویوز لیتا ہے ، ان لاکھوں ویوز کے بدلے ہزاروں ڈالر کماتا ہے ، اچھی گاڑی میں کالج آتا ہے اور کالج میں صرف شو آف کے لیے آتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک جو کامیابی ہے وہ سمیٹ چکا ہے تو وہ کچی عمر کا بچہ کنفیوز ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے ، لوگ پڑھے لکھے بغیر کامیاب ہو رہے ہیں، تو انکے لیے اداروں کو چاہیے کہ اپنا رول پلے کریں ، جو سکول اور کالج شاہیر سیالوی اور قیصر احمد راجہ کو اپنے بچوں کو لیکچر دینے کے لیے بلاتے ہیں ان سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس معاشرے میں اسلام ، پردہ اور آخرت کی کامیابی کا سبق ہر دوسرا شخص دے رہا ہے ، خدارا آپ ان کو اس دنیا میں کامیابی کا سبق دیں ۔ والدین اپنے بچے آپ کے پاس اسی مقصد کے لیے بھیجتے ہیں اور اس کے لیے بہت بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب فوج اور بیوروکریسی پاکستان میں کامیابی کی واحد علامت تھیں تو کالجوں نے جعلی کیپٹین ،کمشنر تک بلوا لیے تھے ، اب کامیابی کا راز سوشل میڈیا ہے تو مہربانی کر کے کوئی سوشل میڈیا سٹار تو ڈھنگ کا بلوا لیں۔ اگر آپ نے اپنے ادارے کے بچوں کو سوشل میڈیا سٹار سے ہی ملوانا ہے تو کسی ایسے شخص سے تو ملوائیں جس کی کوئی ایک فیلڈ ہو ، پہلے وقتوں میں ژونرا کہتے تھے لوگ شائد اب کے کالج کے پروفیسر بھی اس سے واقف ہوں گے ، جو شخص صبح اٹھ کر تین ہاٹ ٹرینڈنگ ٹاپک اٹھا کر ان پر کچھ بھی بول دیتا ہے اور اس میں مذہب کا تڑکا لگا دیتا ہے تو وہ سٹار کیسے ہو گیا ؟ ان کو کسی ایسے شخص سے تو ملوائیں جو ان کو اپنے فیلڈ سے متعلق کچھ بتا سکے، ابرار (وائلڈ لینز والا) کو بلائیں جو ان بچون کو بتا سکے کہ اس نے یہ کام شوقیہ شروع کیا ہے ، وہ شعبے کے اعتبار سے انجینیئر ہے اور شروع میں جاب سے پیسے اکٹھے کر کے چھٹی لے کر شوقیہ یہ کام کرتا تھا تو ہو سکتا ہے ان بچوں کو کوئی سمجھ آ جائے۔ اب تو فوڈ وی لاگر کالج میں مدعو ہونے لگے ، مطلب ہے کچھ سمجھ میں آنے والی بات۔ فوڈ وی لاگر اب کالج آ کر یہ سمجھانے سے تو رہا کہ بھیا جب بازار جاؤ تو سموسہ ہمیشہ اس دکان سے کھانا جہاں تلنے والا بیٹھ کر تل رہا ہو ، کھڑے ہو کر تلتے ہوئے ہاتھ آگے پیچھے نکل جاتا ہے۔

اکثر موٹی ویشنل (قصدا وقفہ ہے یہ) یہ مثال دیتے ہیں کہ سوچیے اگر سچن ٹنڈولکر فلموں میں کام کرتا تو کیا ہوتا ، اگر شاہ رخ کو ماں باپ نے کلکٹر بنا دیا ہوتا تو کیا ہوتا ؟ وہ دونوں کامیاب ہو گئے تو انکی مثال دیتے ہوئے یہ لوگ جھجکتے نہیں ہیں اور یہ ثابت کر جاتے ہیں کہ ہر بندہ ایک مخصوص کام کے لیے بنا ہے اور وہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس کام کے کیے بنا ہے۔ یہ سب رٹی رٹائی باتیں ہیں عبدالسلام جھنگ کے جس سکول میں پڑھا تھا وہاں ممکن ہے آج تک فزکس پنجابی میں پڑھائی جا رہی ہو اور وہاں پر کوئی نہیں تھا جو اس بچے کی مدد کر سکتا یہ سمجھنے میں کہ وہ فزکس پڑھنے کے لیے بنا ہے یہ سب بہت بعد کی باتیں ہیں ہو سکتا ہے خود ڈاکٹر سلام کو گریجوایشن کے بعد پتہ چلا ہو کہ بھائی فزکس میں تو بہت مزہ آرہا ہے، یہ لیکچر کم از کم گریجوایٹ کلاس کے سامنے تو دیا جا سکتا ہے لیکن میٹرک اور انٹر کے بچے کو اس وقت یہ سمجھانا زیادہ ضروری ہے کہ ہر شارٹ کٹ کا ایک لائف انٹرول ہوتا ہے، ۲۰۱۵،۲۰۱۶ میں شارٹ ویڈیوز کا ایک طوفان آیا تھا اس دور کو یاد کریں تو رضا سمو کے علاوہ آج آپ کو شائد کوئی ایک دو چہرے نظر آ جائیں۔ رضا سمو جیسے بھی تو ۱ یا ۲ فی صد ہیں تو کیا ۱۰۰ بچوں کی کلاس میں ہر بچے کا یہ رسک لینا لازمی ہے کہ وہ انجینئرنگ چھوڑ کر (ڈراپ آؤٹ) فل ٹائم سوشل میڈیا پر بیٹھ جائے۔ اگر کامیابی کا معیار ایک یا دو فی صد ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ رضا سمو کی کلاس کے ایک دو بچے اب کسی ملٹی نیشبل کمپنی میں ضرور مینیجر بن چکے ہوں گے۔ کالجز اور یونیورسٹیاں پڑھانے اور ڈگری دینے کے علاوہ بھی بہت کچھ سکھا دیتی ہیں، لوگ کالج ڈراپ آؤٹس اور کامیاب ترین لوگوں کی مثال دیتےہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس جگہ سے ڈراپ آؤٹ ہوتے ہیں شائد پاکستان سے ۱ فی صد لوگ وہاں پہنچ بھی نہیں پاتے، بچوں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ وہ آکسفورڈ میں نہیں پڑھ رہے ان کے کلاس فیلوز مارک زکر برگ جیسے ہرگز نہیں ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ وہ سٹیو جابز جتنا ذہین ہے تو اس سے ضرور پوچھیں کہ نئے آنے والے آئی فون میں کیا نیا لایا جائے کیونکہ ایپل پچھلے چار سال سے کچھ خاص نیا نہیں کر پائی اور اگر وہ جواب نہ دے سکے تو اسے یہ ضرور مشورہ دیں کہ اتنا پڑھ جائے کہ ڈراپ آؤٹ سٹیو جابز کے برابر آ سکے۔

عاقل اعوان

اے آئی کے مطابق ایک پاکستانی سوشل میڈیا سٹار

Leave a comment