سرخرو کون

آج ن لیگی رہنما صدیق الفاروق وفات پا گئے ہیں ، اللہ پاک انکی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔

صدیق الفاروق کی موت کی خبر ن لیگ کے اپنے آفیشل اکاؤنٹس کے علاوہ مختلف میڈیا چینلز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شئیر کی گئی ہے جہاں پر پاکستان کے ایک بہت بڑے باشعور طبقے کی طرف سے نفرت آمیز ، ہتک آمیز اور غیر انسانی  رویے کا بدستور مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

دشمن اگر اعلی ظرف ہو تو موت کے ساتھ تمام رنجشیں ختم کر دیتا ہے، ہو سکے تو لوگ آخری رسومات میں بھی شریک ہوتے ہیں اور اگر دشمنی کوئی اصولی اور نظریاتی ہو تو باقی عمر اس شخص کو سراہتے بھی ہیں نہ کہ ایک مرے ہوئے شخص پر کوئی ایسا الزام لگاتے ہیں جس کا جواب دینے والا اس دنیا سے جا چکا ہوتا ہے۔

جو لوگ اپنے دھڑے کے لوگوں کی موت کو بھی ایک پل میں بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں ، بعض مواقع پر لواحقین کو گھر بلا کر اظہار افسوس کرتے ہیں اور ایک عام عوامی تاثر کے باوجود کہ وہ جنازوں میں شرکت نہیں کرتے، اس کو ایڈریس نہیں کرتے اور خدانخواستہ اگر کوئی مجبوری ہے بھی تو سرعام مان کر اس تاثر کو ختم نہیں کرتے ، ان کے چاہنے والوں کو کسی کی موت کی خبر پر ہنستے ، پھبتیاں کستے ، اسی دنیا میں خود ہی عالم سزا وجزا برپا کرتے اور تمسخر اڑاتے اگر آپ دیکھیں تو حیران ہر گز مت ہوا کیجیے کہ یہی وہ شعور ہے جو پچھلے تیرہ سال میں اس ہجوم کو میسر آیا ہے۔

جن لوگوں کو سیاسی “شعور” ۲۰۱۱ کے بعد آیا اور “جمہوری شعور” ۲۰۲۲ کے بعد آیا ان کے متعلق میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ انہوں نے صدیق الفاروق کا نام بھی آج سے پہلے نہیں سنا ہو گا، ان کا انکی موت پر یہ غیر انسانی رویہ پھر بھی ناقابل قبول ہے کہ جس شخص سے آپ واقف ہی نہیں ہیں ، اس شخص کی محض سیاسی وابستگی کی وجہ سے وہ آپ کے لیے قابل نفرت کیسے ہو سکتا ہے ؟ اس رویے کی آبیاری تمام حکومتوں نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ سٹیج سے ایسے ایسے نمونے ابھرے کہ جن کے منہ سے آگ نکلتی تھی لیکن حکومتیں چین کی نیند سوتی رہیں کہ ان کو ایسے لوگ درکار تھے جو لوگوں کو اشتعال دلا کر سڑکوں پر لا سکیں ، لاشوں کا مطالبہ کر سکیں ، استعفوں کا مطالبہ کر سکیں اور انکے اقتدار کی راہ ہموار کر سکیں، آج یہ آگ ہر گھر تک پہنچ رہی ہے لیکن اب بھی اس سے بچاؤ ممکن ہے ، اپنا حصہ ڈالیے ،اس پتھر کوئی دھکا ماریے لیکن ابھی یہ فکر چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی جگہ سے ہل نہیں رہا ، ابھی صرف دھکے کی ذمہ داری ادا کیجیے۔

میں دور حاضر کے پر جوش انقلابیوں اور اپنے تئیں بائیں بازو کے لوگوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے مشن میں کلیرٹی لائیے ، جب آپ کو اپنی منزل کا پتہ ہو ، جب آپ کو مقصد کی واضح سمجھ ہو تو آپ اپنے مخالف چلنے والی ہوا سے گلہ نہیں گرتے ، آپ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی وجہ نہیں پوچھتے ، اگر آپ وجہ پوچھ رہے ہیں تو ابھی عملی جدوجہد سے زیادہ علمی غوروفکر کی ضرورت ہے، اگر کوئی ظلم یا زیادتی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا کر اس ظلم کے بدلہ لینے پر راغب کر دیتی ہے تو آپ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص نہیں ہیں ، آپ نے نیلسن منڈیلا اور چی گویرا کا نام تو سن لیا ہے ، زرا انکی زندگی کے بارے میں بھی پڑھ لیجیے۔ دنیا میں جب بھی انقلاب آئے ، خون کی ندیاں بہہ گئیں لیکن کسی نے سوال نہیں کیا کہ کیوں ؟ وجہ ان کو معلوم تھی اور ان کو پتہ تھا کہ یہ کوئی آخری بار بھی نہیں ہے ، منزل تک پہنچنے تک شائد انہوں نے کئی ساتھ گنوا دیے لیکن وہ انکو سرخ سلام کر کے آگے بڑھ گئے ، آپ اگرجبر پر سوال کرتے ہیں کہ کیوں ؟ اور گھروں کو لوٹ جاتے ہیں تو خدارا اس مشق کو روک دیجیے ، اپنے ساتھی مت گنوائیے ، اگر جنگ جبر کے خلاف ہے تو یہ حد سے بڑھ کر ہی ختم ہوتا ہے لیکن جب آپ ایک قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو جابر کو اور مظبوط کر جاتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر کسی شخص کی علالت کی صورت انتہائی قابل رحم تصاویر شئیر کرنے کو ایک انتہائی غیر اخلاقی اور جاہل حرکت سمجھتا ہوں چاہے وہ جس نیت سے بھی شئیر کی جائے ، آپکی نیت اچھی ہو گی لیکن آپ ایک شخص کی اجازت کے بغیر ایک ایسی تصویر شئیر کر رہے ہیں جس میں وہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تو زرا خود سے سوال کیجیے کہ کیا ایسی تصویر آپ اپنی شئیر کر سکتے ہیں ؟ تصویر بنانے سے پہلے سو بار بال درست کرنے والے ، کپڑے کی سلوٹ ٹھیک کرنے والے ، اپنا بیک گراؤنڈ کا خاص خیال کرنے والے جب بھی کوئی ایسی تصویر لگاتے ہیں تو وہ جاہلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اپنی زندگی میں ہر شخص خوبصورت ، بارعب ، وجیہہ اور پر کشش نظر آنا چاہتا ہے تو اپنی کسی پیارے سے یہ حق مت چھینیے۔ ایسی تصاویر شئیر کرنے والے تو چلو مان لیا کہ کہ حماقت میں ایسا کرتے ہیں ، ہمدردی یا بعض اوقات اپیل کرنے کے لیے ایسا کر دیتے ہیں (جو قابل قبول ہرگز نہیں ) لیکن زرا اس شخص کی ذہنی حالت ، شعوری اور اخلاقی سطح کا اندازہ کیجیے جو ایسی تصاویر پر ہنستے ہیں ، تمسخر اڑاتے ہیں اور نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔ آج صدیق الفارق کی موت کی خبر پر جو لوگ ایسا کر رہے ہیں میں انکی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ صدیق الفاروق کے بارے میں تھوڑی تحقیق کر لیں ، دو دہائیاں پہلے اگر آپ میں اتنا ہی سیاسی شعور ہوتا ، آپ تاریخ کی اسی سمت کھڑے ہوتے جہاں آج کھڑے ہیں ( بشرطیکہ کہ آپ کی جنگ جمہوری اور نظریاتی ہے )اور آپ کے مہاتما کو اقتدار کا لالچ نہ ہوتا تو شائد آج آپ صدیق الفاروق کی موت پر غمزدہ ہوتے ، صدیق الفاروق کی اپنی کتاب “سرخرو کون ” کا مطالعہ کر لیجیے شائد آپ کو تھوڑا سا بھی اندازہ ہو جائے کہ آپ سیاسی اختلاف میں انسانیت کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

عاقل اعوان


Leave a comment