آپ فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا شکار کیوں ہیں ؟

پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک نیا نیکی کا پاٹ شروع ہوا ہے کہ آپ کے نام سے اکاؤنٹ بنتا ہے ، آپ کے دوستوں کو فرینڈ ریکوئسٹ آتی ہے ، چند منٹوں میں کچھ لوگ ایکسپٹ بھی کر لیتے ہیں اور پھر سلسلہ آگے بڑھتا ہے ، ایسے واقعات زیادہ تر فراڈ پر منتج ہوتے پائے جاتے ہیں ، اس لیے جب بھی ایسی کوئی ایکٹیویٹی ہوتی ہے تو آپ کو اپنے دوستوں کو خبردار کرنا پڑتا ہے کہ کوئی اس جال میں پھنس نہ جائے، میں خود اس مشق سے بارہا گزرا ہوں اور اس کی کچھ وجوہات پر بات کرنا ضروری ہے۔

بہت سال پہلے فیس بک پر ہی ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ جس میں ایک گھر میں ڈاکو گھستے ہیں اور گھر کے مالکان سے گن گن کر چیزیں نکلواتے ہیں ، آخر پر ایک خاتون ہمت کر کے پوچھ لیتی ہے کہ آپ کو کیسے پتہ کہ میرے پاس یہ چیزیں ہیں تو ڈاکو جواب دیتا ہے کہ “ میں آپ کا فیس بک فرینڈ ہوں” تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ آپ سے فراڈ کرنے والا کہیں نہ کہیں سے آپ کے ساتھ منسلک ہے ، آپ کا فیس بک فرینڈ ہی آپ کے سوشل میڈیا سے آپ کی معلومات لے کر آپ کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔  فیس بک پر انجان لوگوں کو اپنی فرینڈ لسٹ سے پہلی فرصت میں نکال باہر کریں ، پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے ساتھ صرف آپ کے جاننے والے لوگ فرینڈ ہوں ، جو پہلے سے ایڈ ہوں ان کے نام سے کوئی دوسرا اکاؤنٹ ایڈ کرنے سے پہلے ایک بار ان سے پوچھ لیں  ، اگر کنفرم نہیں تو تھوڑے دن رک جائیں تسلی کر لیں موجودہ دور میں آپ کی آن لائن حفاظت کسی بھی دوستی سے زیادہ اہم ہے۔  اگر گزرے وقتوں میں انجانے لوگ ایڈ کیے ہیں تو اب وقت ہے کہ لسٹ کی صفائی کی جائے ، دیکھو بھائی پانچ ہزار کی دوستوں کی حد تک پہنچ کر بھی اگر آپ سنگل ہو ، آپ کو سوشل میڈیا سے پیار نہیں مل پایا تو بہتر ہے کہ اب واپسی کا سفر اختیار کرو اور اگر مل چکا ہے تو پھر بھی اب ان باقیوں کی تو چھٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا انفلواینسر نہیں ہیں ، آپ کوئی عوامی آدمی نہیں ہیں تو کوئ آپ کو خواہ مخواہ کیوں ایڈ کرے گا ، یا پھر بھی اگر آپ کو کوئ جاننا چاہتا ہو کہ آپ کہاں ہیں ، کس کے ساتھ ہیں ، کیا کھا رہے ہیں تو اس کے لیے فالووز کا آپشن ہے اس سے بھی کائی آپ کی معلومات تب لے سکتا ہے جب آپ پوسٹ کرتے وقت “پبلک “ والا آپشن استعمالک کرتے ہیں ، اگر صرف دوستوں کے ساتھ شئیر کریں گے تو محفوظ رہیں گے ، اور خود بھی ہر کسی کو فرینڈ بنا لینے سے بہتر ہے کہ فالو کر لیں۔ دوست کا درجہ اسی کو دیں جس کو آپ جانتے ہیں ، کوئی پروفائل بالکل ہی فیک لگ رہی ہے تو ریکوئسٹ ڈیلیٹ کریں ، کسی دوست کے نام کی فیک پروفائل لگ رہی ہے تو اس کو اطلاع دیں ، وقتا فوقتا اپنے فرینڈ لسٹ کی چھانٹی کریں ، آپ کی پروئیویسی آپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے ، اگر آپ کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو یہ باتیں آپ کے لیے ہیں ہی نہیں۔

فیسبک پروفائل لاک کا آپشن دیتا ہے اس کا استعمال کریں ، اگر یہ نہیں تو کم از کم اپنے فرینڈز کی لسٹ صرف اپنے تک رکھیں ،  آپ کے دوستوں کی فہرست ہر کسی کو نظر نہیں آنی چاہیے ، ڈائریکٹ میسج کرنے کا آپشن صرف دوستوں کے پاس ہونا چاہیے ، میسج کی سیٹنگز میں جا کر یہ فیچر آن کر لیں تو آدھی بیماریوں سے آپ کا واسطہ ویسے ہی نہیں رہے گا-

اب یہ مسائل نہیں رہے لیکن کچھ سال پہلے تک یہ مسئلہ بھی عام تھا کہ کسی انٹرنیٹ کیفے پر فیس بک لاگ ان کی اور لاگ آؤٹ کرنا بھول گئے تو آپ کی خیر نہیں ، اب ہر کسی کے پاس اپنا فون ہے لیکن پھر بھی کوشش کیجیے کہ کسی اور کے فون پر ، کمپیوٹر پر غیرضروری اپنے اکاؤنٹس لاگ ان نہ کریں ، اگر کر یں تو یاد سے لاگ آؤٹ کریں ، آپ کو اپنے دوست پر مکمل اعتماد ہو گا مگر اگلے چوک پر اس سے فون ہی چھن گیا تو کیا ہو گا؟

اگر فیس بک پر ہزار بندہ بھی آپ کو ہیپی برتھ ڈے بول دے تو آپ اتنے لوگوں کی وش کے تو سکرین شاٹس بھی نہیں لگا سکتے تو پھر کیا فائدہ ہوا ؟ اگر آپ نے ڈیٹ آف برتھ پبلک کو شو کرنی ہی ہے تو بھائی پیدائش کا سال تو چھپا لو اس سے آپ ان لوگوں سے بچ جائیں گے جو مخصوص عمر کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔

فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہونے کی بھی خبریں آتی ہیں ، اس طرح کے کیس میں زیادہ تر ہم غلطی پر ہوتے ہیں ، بہت آسان اور اندازہ لگائے جانے کے قابل پاسورڈ لگا کر ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہمارا اکاؤنٹ محفوظ ہے ، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نام اور تاریخ پیدائش ملا کر لوگوں نے پاسورڈ بنا رکھے ہوتے ہیں ( یہاں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاسورڈ بعد میں مع دو بچوں کے کسی اور کے ساتھ نظرآتے ہیں )اور اگر آپ نے تاریخ پیدائش بھی سب کو بتا رکھی ہے تو بتائیے پھر آپ کا اکاؤنٹ کتنا محفوظ ہے ؟ صرف کسی کا دھیان پڑنے کی دیر ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ بھی جہاں جہاں ممکن ہو پاسورڈ کے ساتھ “ دوہری تصدیق “ یا “ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن “ کا استعمال یقینی بنائیں جس سے آپ پاسورڈ کے ساتھ کسی ای میل یا فون نمبر پر کوڈ موصول کر کے اندراج کرتے ہیں تو اکاؤنٹ لاگ ان ہو سکتا ہے اور بعض جگہہ پر “گوگل اتھینٹیکیٹر “ ایپ کے ذریعے کوڈ لے کر آپ کوڈ اندراج کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے دوہری تصدیق کا آپشن آن کیا ہوا ہے تو صرف پاسورڈ سے کوئی آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی نہیں لے سکتا۔ ہمارے پاکستان میں عام عوام میں ای میل کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ، حالانکہ اس میں کوئی بہت بڑی سائنس نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم بنیادی تعلیم ہونے کے باوجود ابھی کچھ اچھی چیزیں استعمال میں نہیں لا پائے، اپنے اکاؤنٹس اپنی ای میل کے ذریعے رجسٹر کرنے سے آپ کو یہ فائدہ ہے کہ اگر موبائل گم جائے تو آپ ای میل کے ذریعے اپنا اکاؤنٹ کسی بھی اور کمپیوٹر یا موبائل سے لاگ آؤٹ کر سکتے ہیں ۔ ہر آتے دن کے ساتھ سہولت بڑھتی ہے تو مصیبت بھی بڑھتی ہے ، اب فیس بک آپشن دیتا ہے کہ اگر آپ کے فون پر فیس بک لاگ ان ہے اور آپ کسی دوسرے موبائل پر فیس بک لاگ ان کرنا چاہتے ہیں تو آپ جس موبائل پر پہلے سے لاگ ان ہیں اس پر فیس بک کے اندر کوڈ لے سکتے ہیں جس کو استعمال کر کے آپ دوسرے فون پر لاگ ان کر سکتے ہیں ، یہ کوڈ فیس بک کے نوٹیفکیشن ایریا میں شو ہوتا ہے ، اس فنکشن کے آنے کے بعد اگر کسی کو پتہ ہے کہ آپ کی فیس بک آئی ڈی کس ای میل یا فون نمبر پر ہے تو وہ اس نمبر یا ای میل کے اندراج کے بعد یہ آپشن استعمال کر کے ہو سکتا ہے آپ سے کسی بہانے سے یہ کوڈ مانگے گا ، ایسا کوئی کوڈ کسی کے ساتھ شئیر نہ کریں اور اگر کر چکے ہیں تو فوری اپنا اکاؤنٹ کسی بھی اور ڈیوائس سے لاگ آؤٹ کریں ۔

موبائل کا استعمال بہت محتاط ہو کر کریں ، فراڈ ہر دور میں رہے ہیں بس طریقہ واردات بدل جاتا ہے ، آج سے کوئ پندرہ سال پہلے مجھے بھی کسی موبی لنک کے معزز نمائندے نے فون پر بتایا تھا کہ میری انعامی لاٹری نکلی ہے اور میں سچ مان کر بھائی کو بتانے گیا تھا تو ان کو مجھے کھینچ کر واپس زمیں پر لانا پڑا تھا۔ اب طریقہ واردات ٹیکنالوجی کے ساتھ آسان ہو گیا ہے ، اب ہر کوئی کم از کم اینڈرائڈ “ٹچ” موبائل استعمال کر رہا ہے جو انٹرنیٹ سے کنیکٹڈ ہے ، آپ کو بعض اوقات انجانے نمبرز سے مختلف لنک “ نیلے رنگ میں لکھا ہوگا اور نیچے لائن بھی ہو گی” میسج میں موصول ہوتے ہیں ، وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ اپنے پارسل کا سٹیٹس معلوم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں ، ایسا کوئی بھی انجان نمبر سے موصول ہونے والا میسج فراڈ ہے ، تجسس میں کبھی بھی ایسی کسی لنک پر کلک مت کریں ، اگر آپ کلک کریں گے تو آگے ہو بہو بینکس ، سوشل میڈیا ویبسائیٹ یا ایسی کسی بھی ویبسائیٹ کا ایک “فیک ویب پیج” ہو گا جسے آپ اصل سمجھ کر اگر اپنی معلومات دیں گے تو دوسری طرف آپ کا اکاؤنٹ آسان لفظوں میں ہیک ہو جائے گا۔

آج کل اک اور طریقہ واردات یہ بھی ہے کہ آپ کو سیدھا واٹس ایپ پر میسج یا کال آتی ہے ، اور کسی ایسے ملک سے آتی ہے جس کا آپ نے نام بھی نہیں سنا ہوتا ، ایسی کسی بھی کال کو نظرانداز کریں ، بلاک کریں اور بھول جائیں ، اس واٹس ایپ پر لگی کسی حسینہ کی تصویر اگر آپ گوگل کر لیں گے تو آپ کو یقین ہو جائے گا، اگر آپ تھوڑے بہت گنہگار ہیں تو دیکھتے ہی تصویر پہچان بھی جائیں گے لیکن مسکرا کر بلاک کیجیے اس سے آگے خطرہ ہے۔

عاقل اعوان


Leave a comment