خدیجہ شاہ کہاں گئی ؟

ایک جرنیل ، ایک جرنیل ، ایک جرنیل

یہ پڑھ کے شائد آپ کو یاد آ گیا ہو گا جب علی احمد کرد سٹیج پر کھڑے ، زلفیں سنوارتے پاکستان کے جوانوں سے آزادی کے پر جوش نعرے لگوا رہے تھے، اور لوگوں کو بتا رہے تھے کہ اس بائیس کروڑ عوام پر ایک جرنیل بھاری ہے تو اس وقت وہ جھوٹ بول رہے تھے لیکن لوگ فرط جذبات میں بھولے ہوئے تھے کہ کہ اسی عدلیہ نے ہمیشہ ان فوجیوں کا راستہ ہموار کیا ، یہی وکیل ، کمرہ عدالت میں جج کو دھمکی لگا جاتے ہیں ، انہی کی بار کونسل کے عہدیداران تاریخ پر تاریخ ڈلوانے کے علاوہ کوئی اور نیک کام نہیں کرتے، یہ عوام بھول گئی تھی کہ جب خدیجہ صدیقی کیس میں بھرپور عوامی پریشر ، میڈیا پریشر اورمدعی کے لاجواب اور  تھکا دینے والے حوصلے اور پیروی کے بعد جب مجرم کو سزا ہوئی بھی تو انہی کی عدالتوں نے “اچھے اخلاق” کے عوض سزا معاف کردی تھی ، کسی جرنیل نے ناظرہ قرآن پر تین سال قید کم کر کے اسے آزاد نہیں کیا تھا۔

یہ ایک مثال ہے ، آئے دن ایسے کیسز بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کی ذینت بنتے ہیں ، چند دن تجزیہ کار اس کا احاطہ کرتے ہیں ، صبح ، دوپہر ، شام میڈیا خوراک سمجھ لوگوں کو پلاتا ہے ۔ اتنے بے رحم ہو چکے ہیں اس معاشرے میں لوگ کہ اب قتل کی خبر سن کر ان کا دل نہیں پسیجتا ، کیونکہ یہ اب روز کا معمول بن چکا ہے ۔ لوگ مان چکے ہیں کہ اسی طرح سب چلتا رہے گا ، یہ ظلم ، ناانصافی اور زیادتی اب معمول بن چکا ہے ، یہ ظلم اتنا سرایت کر چکا ہے کہ اب ظالم کو مفت کے وکیل دستیاب ہیں ، یہ لوگ اب ظلم کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتے ، ان کو بس اب اپنی مرضی کا ظالم چاہیے۔

عمران خان کے دور حکومت میں بھی سب ایسا ہی تھا جیسا اب چل رہا ہے، اس سے بد تر حالات تھے ۔ ن لیگ کے اندر کا خوف عمران خان کو ہیرو بنا گیا ، اگر ن لیگ تھوڑی جلد باز اور شوباز نہ ہوتی تو عمران خان بندگلی میں آچکا تھا ، ان سب دنگے فسادوں کے بغیر ، عمران خان الیکشن ہار جاتا ، چار سالہ کارکردگی کودیکھتے ہوئے ان کے جیتنے کے کوئی آثار نہیں تھے ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے میدان سجایا اور خان صاحب نے سانپ نکال دیا ، وہ اب ان سے پکڑا نہیں جا رہا۔

پاکستان میں اصل حکمران پردے کے پیچھے ہیں ، پردے کے آگے آنے والے سبھی ان کی اجازت سے آتے ہیں۔ مجھے پردے کے پیچھے والوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ اختیارات کی جنگ ہر جگہ ہے بس ہمارے جیسی بدصورتی اور کہیں نہیں ہو گی ، پردے کے پیچھے والے ہمیشہ رہیں گے ، آپ ان کو جرنیل کہیں ، امریکہ کے یار کہیں ، جو مرضی کہہ لیں اس دور کی بڑی سچائی معیشت ہے ، عمران خان جیسے وژنری سیاستدان کے پاس اگر رمٹنس کے علاوہ معیشت کا کوئی حل نہیں ہے تو یہ لیڈرشپ کا فقدان ہے یہ پردے سے پیچھے والوں کا قصور نہیں ہے ، جس دن سیاستدان پردے سے آگے آ کر پیچھے والوں کا راستہ بند کرنے کے بجائے اپنے حصے کا کام کریں گے ، عوام کا بھلا سوچیں گے تو کچھ بہتری ہو سکتی ہے نہیں تو یہ کشتی چلتی رہے گی۔

ابھی ن لیگ عمران خان کا راستہ بند کرنے کے بندوبست کر رہی ہے اور پردے سے پیچھے بیٹھے لوگ اپنے پیادے استعمال کر کر کے ان کی مدد کر رہے ہیں ، جس دن ن لیگ کی حمایت نہیں ہو گی اسی دن پیادوں کی چالیں بدل جائیں گی، پردے سے پیچھے بیٹھنے والوں کو پیادوں کی کبھی کمی نہیں رہی ، ان پیادوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی وزیر نہیں بنتے اور اس بات کا تو ان کو پورا یقین ہوتا ہے کہ وہ مریں گے کبھی نہیں  ، یہ پیادے اپنا دور مکمل کر کے پھر سے پردے سے ہیچھے چلے جاتے ہیں ، یہ پیادے کبھی قوم پرست ، کبھی شدت پسند ، کبھی مذہب فروش ، کبھی نظریہ فروش ، کبھی قوم فروش رہے ہیں اور آج کل سوشل میڈیا انفلواینسر ہیں ۔ یہ پیادے استعمال کر کے پردے سے پیچھے بیٹھے لوگ چن چن کر عوام میں سے ان کے ہم خیال ڈھونڈتے ہیں اور پھر ان کا زہر نکالنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ ۹ مئی کے واقع میں خدیجہ شاہ ایک سرکردہ پیادہ تھی ، اس کا شجرہ نسب نکالیں تو مزید واضح ہو جاتا ہے ، مقدمہ اس پر بھی بنا مگر آج کل کہاں ہے ؟ چھوٹے چھوٹے بے ضرر لوگ بیچارے جو صرف ان پیادوں کی باتوں میں آکر نکل آئے تھے کم سے کم سال کی جیل کاٹ کر لوٹے ہیں ، خدیجہ شاہ معافی نامہ دےکر بری الزمہ ہو گئی ، یہ سہولت سب کو کیوں نہیں ؟ لیکن لوگ یہ سہولت مانگتے بھی کب ہیں ان کو تو یہ صدمہ تھا کہ خدیجہ شاہ سے زبردستی معافی منگوائی گئی ، عقل کے اندھے یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ زبردستی ان کے ساتھ کیوں نہیں ہوتی ؟

بشری بی بی کی انٹری کوئی عام انٹری نہیں تھی اور لگ ایسے رہا ہے کہ انڈین ویب سیریز “ مہارانی “ کا ری میک ہونے والا ہے ، علی امین گنڈاپور اس ری میک کا “ کالا ناگ “ ہے ، جس دن بھی مہارانی پاور میں آئے گی تو یہ سب سے پہلے اندر جائے گا ، بس ابھی مہا مائن کا دل نہیں بن رہا ، اور یاد رکھیے مہامائن ہمیشہ نفع میں رہے گا، اس کے لیے بیٹھا جی ، کالا ناگ چھوڑیے وہ اپنا بھانجا بھی قربان کر دیں گے۔

آخر پر ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ جن لوگوں کو ایسے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے سرکردہ لوگ پیادے نہیں ہیں وہ واقعتا عمران خان کے مخلص ہیں تو عمران ریاض خان کے بارے تھوڑی سی تحقیق کر لیں ، عمران ریاض خان تحریک انصاف کے دنوں میں بھی کالا تیتر مشہور تھا ، جب واپسی ہوئی تو فارم ہاؤس اور گھوڑے بھی تھے۔ میرا نہیں خیال کہ شکار اور گھوڑے کے شوقین کے لیے کسی دور دراز ، خوبصورت علاقے میں ہر سہولت سے آراستہ کسی فارم ہاوس پر چھ ، آٹھ مہینے گزارنے مشکل ہوں گے۔

خدیجہ شاہ ، عمران ریاض خان ، علی امین گنڈاپور پیادے ہیں ، ان جیسے لوگوں کے لیے اپنی جوانی اور وقت ضائع مت کریں، جب سکرین پر اداکار بدلیں گے تو پیادے بدل جائیں گے ، کھیل پھر وہی رہے گا ، ان سے کھیل کے اصول بدلنے کا مطالبہ کیجیے ، ان سے کہیے کہ اب تالی تب ہی بجے گی جب ہال میں روشنی ہو گی ، بہت ہو گیا یہ کھیل۔


Leave a comment