کتھارسس

پڑھے لکھے دوست بڑی نعمت ہوتے ہیں ، بندہ نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی جانے سے پہلے ایک سال بریک لیا تھا تو چار کتابیں نصاب کے علاوہ بھی پڑھ لی تھیں لیکن ساری اردو کی پڑھی تھیں ، انگلش کو کبھی ہاتھ ہی نہیں لگایا تھاتو انگلش سے اپنا تعلقی نصابی ہی رہا۔

یونیورسٹی جا کر جب کہیں چائے پینے بیٹھتے تو سب کے انقلابی باہر آتے تو بڑی لمبی چوڑی بحث کے بعد ( جس کا نتیجہ اکثر خالی بٹووں کی قسم پر ہوتا تھا)بغیر کسی نتیجے کے اٹھ جاتے لیکن کوئ نا کوئ بات ایسی ہوتی تھی جو سوچنے پر مجبور کرتی تھی یا کوئ ایسا نیا لفظ جو پہلی بار سننے کو ملتا تھا جو سننے کے بعد مطلب تو کوئ نہیں پوچھتا تھا لیکن میں اکثر واپس آ کر مطلب دیکھ ہی لیتا تھا کہ اگلی وار کوئ بولے تے گل پلے تے پوے۔

خالد صہیب رانا صاحب نے ایسی ہی کسی بحث کے دوران لفظ “کتھارسس” استعمال کیا تو میرے کان کھڑے ہو گئے لیکن میں نے کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا اور لفظ یاد کر لیا۔

کتھارسس آسان لفظوں میں بھڑاس نکالنے کو کہتے ہیں اور اگر تفصیل میں دیکھا جائے تو ارسطو کے مطابق جب بھی کوئ سانحہ (tragedy ) ہوتی ہے تو اس کا دیکھنے والوں پر اک اثرہوتا ہے جو بعد میں اس کے اثرات کو زائل کرتے ہیں ، ارسطو بڑا آدمی تھا اس کے مطابق کتھارسس کے ذریعے اپنے جزبات کو شفاف کیا جا سکتا تھا اور اس کو آرٹ ، شاعری یا آرٹ کی کسی بھی قسم سے ظاہر کر کے اپنے باطن کو تسکین دی جا سکتی تھی جو شروع میں ایک منفی اثر کے ساتھ شروع ہوتی لیکن آخرکار خوشی میں بدل جاتی ، یہ تو تھا ارسطو کا فلسفہ جو میں سمجھ پایا ، شائد غلط سمجھا ہو۔

آج کل بہت لوگ کتھارسس کرتے نظر آتے ہیں اور چونکہ صدیوں کا ٹراما ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچا ہےاس لیے بہت سی محرومیاں ، خوف اور بے تحاشہ غصہ ہے جو ہمارے اندر دبا ہوا ہے ، یہ ایک ٹریجڈی ہے کہ ہماری نسل پچھلی نسل سے زیادہ فرسٹریشن کا شکار ہےاور تخلیقی صلاحیتوں سے اتنی ہی دور ہے ، اگر تخلیقی صلاحیتیں ہوتیں تو آج جو پاکستان کے حالات ہیں ان میں تاریخ کا بہترین مزاحمتی ادب تخلیق کیا جا رہا ہوتا اور با اثر لوگ پھر سے کوئ “ رائٹر گلڈ ایوارڈ” طرح کی کوئ چیز متعارف کراتے لیکن اب وہ بالکل بے فکر ہیں اس طرف سے کہ انہوں نے اس نسل کو سوشل میڈیا کی جنگ میں لگا دیا ہے ۔

ہم روز صبح اٹھتے ہیں ، ایک بنی بنائی تصویر کے ساتھ دو لائنیں ہمارے سامنے آتی ہیں جو ہمارے اندر دبے ہمارے کسی دکھ ، کسی محرومی یا کسی خوف کو اٹریکٹ کرتی ہیں تو ہمارے دل کو لگ جاتی ہیں، وہ ہم اپنی وال پر شئیر کر دیتے ہیں اور آگے اپنے جیسے اور کئ لوگوں کے لیے “ کتھارسس” کا سامان مہیا کرتے ہیں۔

ورزش کیا کریں ، اگر کرتے ہیں تو دورانیہ بڑھا دیں اپنا آپ بہت ہلکا لگے گا آپ کو، مطالعہ کر لیں، کر رہے ہیں تو کچھ نیا پڑھیں، کئی نئے زاویے ملیں گے دنیا دیکھنے کے، اپنے آپ پر فوکس کریں ، اپنی ٹریجڈی کو سمجھیں گے تب ہی سہی کتھارسس ہو سکے گا ، وہ جو آپ روزانہ شئیر کیے جا رہے ہیں وہ آپ کے اندر کا دکھ ، غم اور خوف ختم نہیں کر پائے گا کیونکہ وہ آپ کے کسی ایک ایموشن کو کنیکٹ کر پا رہا ہے آپ کی اصل ٹریجڈی ایڈریس ہی نہیں ہو رہی بھائ ، آپ کیسے بہترمحسوس کر سکتے ہیں۔

اب لے دے کر ہمارے پاس اک سوشل میڈیا بچ گیا ہے کتھارسس کرنے ، کرو۔ ایسے ہی کر لو، لیکن اپنا اپنا کتھارسس خود کرو ، جو برا لگتا ہے اسے سر عام برا کہو ، جو چیز جو نظام جو طبقہ برا لگتا ہے اسے سر عام برا کہو لیکن اپنے لفظوں میں کہو ، اپنی ساری بھڑاس دن میں ایک دفعہ بیٹھ کر تسلی سے نکالو اور کوشش کرو کہ اسے تخلیقی رنگ دو ، ہجو کہو ، شخصی خاکے لکھو ، یار کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔

دن میں کئی ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں جن کا آپ کو جواب دینے کا دل کرتا ہو گا لیکن آپ کوشش کریں کہ جواب نہ دیں ، کتھارسس کا عمل رک جائے گا ، آپ کے جواب دینے سے کوئ نیادکھ سامنے والے کے اندر جنم دے گا اور یہ عمل مزید طویل تر ہو گا ، کوشش کریں کہ جب بھی دیکھیں کہ کوئ آپ کا عزیزیا دوست کتھارسس سے گزر رہا ہے تو اس کی مدد کریں ، اس کی باتوں سے مکمل اتفاق کریں تا کہ اسے خوشی ، اس کے جزبات کی تسکین ہو اور وہ چین پا سکے۔

یہ کتھارسس ہرگز نہیں لہذا آپ مکمل اتفاق کر کے “cool” نہ بنیں۔

زیر نظر کتاب دیکھ کر خیال آ رہا ہے کہ وطن عزیز میں اس عنوان پر تو پوری سیریز لکھی جا سکتی ہے۔ اسی سے شروع کیجیے ،اپنے ارد گرد آپ کو بہت سے ایسے بہروپیے نظرآئیں گے جو سیاست ، مذہب ، روحانیت ، خدمت اور سب سے بڑھ کر انسانیت کے پرچارک ہوں گے لیکن دھونس ، دھاندلی اور تکبر سے لبریز صرف اپنی کشتی پار لگانے کے چکر میں ہوں گے، ان کو بے نقاب کیجیے۔

عاقل اعوان

۲۰۲۴، اپریل ۲۷


Leave a comment