کیا عاشر عظیم ۹۰ کی دہائی کا حمزہ شفقات تھا ؟

آج کل کے سیاسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے جو حالات ہیں ان میں آپ کو وہی بات اچھی لگے گی جو پاکستان کی نفی کرے ، جاری پروپیگینڈے کو جلا بخشے ، ایک دلیل بن کر سامنے آئے لیکن اس عنوان کو پڑھنے کے بعد شاید آپ کو لگے گا کہ میں عاشر عظیم کو برا بھلا کہنے والا ہوں ، عاشر عظیم اپنے حصے کا برا بھلا سن کر پاکستان سے جا چکا ہے ، وہ اپنا تبصرہ دے رہا ہے میں بھی سنتا ہوں اور آپ بھی سنتے ہوں گے ، لیکن کچھ سوالات ہیں جو دماغ میں آتے ہیں ، ان کا جواب ڈھونڈنا ضروری ہے ، سوالات میں سامنے رکھ رہا ہوں  لیکن اس کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں ہے اور خصوصی طور پر عاشر عظیم کے مذہبی طور پر پاکستان میں ایک اقلیت ہونے کے ناطے یہ صاف طور پر کہنا بہت ضروری ہے کہ میں عاشر عظیم کو ٹارگٹ نہیں کر رہا ، شاید اس دور میں عاشر عظیم کے ہم پلہ اور لوگ بھی ہوں گے جن کو شائد میں نہیں جانتا ہوں گا۔

مجھے ایسے لگتا ہے کہ جو پکچر ایک عام آدمی کے ذہن میں اتاری گئی ہے کہ سیاستدان کرپٹ ، ظالم ، عیاش ، سود خور ، رشوت خور اور لالچی ہوتے ہیں ، یہ اتنے ہوتے نہیں ہیں۔ پاکستان میں موجود دو بڑی طاقتیں بیوروکریسی اور فوج اس پکچر میں بہت محنت سے سیاستدانوں کو فٹ کرتے ہیں اور اس پکچر کی مشہوری کے لیے اشفاق احمد سے لے کر عمران ریاض خان تک ہمیشہ ان کو لوگ دستیاب رہے ہیں۔ فوج کے خلاف بولنا ایک ٹرینڈ بن چکا ہے اور ہر کوئی کچھ بھی بول رہا ہے ، زرا منہ کا ذائقہ بدلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بیوروکریسی کو پاکستان میں کیا کیا سہولیات ہیں اور یہ کتنے بااثر ہیں۔

عاشر عظیم اس دور میں بیوروکریٹ تھا جب ابھی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اتنے عروج پر نہیں تھی ، انہوں نے بے شک محنت سے وہ مقام لیا ہو گا اور پاکستان کی بہتری کے لیے کام بھی کرنا چاہا ہو گا، جو شائد نہیں کر سکے ہوں گے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں اس دنیا کی یہی خوبصورتی ہے کہ آپ اپنا حصہ ڈال کر چلے جاتے ہیں ، آپ اس کل کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں جس کے بارے آپ کو یقین ہوتا ہے کہ وہ کل آپ نہیں دیکھیں گے لیکن شاعر تو شاعر ہیں وہ کہہ دیتے ہیں

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

یہ لازم ہرگز نہیں ہے، عاشر عظیم صاحب کو اگر وہ کل دیکھنا نصیب نہیں ہو سکا تو وہ ان کو اپنے کیے پر خوش ہونا چاہیے ، اس بات کا گلہ نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا ، پاکستان چاروں طرف سے حسیناؤں میں گھرا ہوا ملک ہے ، کسٹم جیسے مسائل تو کم از کم رہیں گے، کم ہوجائیں تو بہت اچھا ہے۔

عاشر عظیم کا بڑا حوالہ بیوروکریسی نہیں ہے ، یہ وہ حوالہ ہے جس پر وہ خود زیادہ بات کرتے ہیں ، ان کا بڑا حوالہ ڈرامہ سیریل “دھواں” ہے ، جس کی وجہ سے ان سے آج کا بچہ بھی واقف ہے، ان کا حوالہ فلم “مالک” ہے جس کا اتنا امپیکٹ تھا کہ میں بھی گزرے دنوں میں اس کے زیر اثر راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ میں پٹتے پٹتے بچ گیا ، خیر یہ کہانی پھر کبھی۔

عاشر عظیم صاحب نے دھواں کی وجہ سے جتنا نام کمایا وہ اس پر اتنی بات نہیں کرتے ، وہ یہ نہیں بتاتے کہ اگر وہ بیوروکریٹ نہ ہوتے تو کیا وہ دھواں ڈرامہ بنا پاتے ؟ جتنا سچ وہ اس وقت دکھا پائے کیا اس کی اجازت کسی اور پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کو بھی تھی ؟ اس سے ہٹ کر آپ دھواں کی پوری کاسٹ کو یاد کر لیں آپکو نبیل ظفر اور عاشر عظیم کے علاوہ کوئی نام یاد نہیں آئے گا، نبیل نے اس کے بعد پوری زندگی کام کیا ہے تو شائد پیسے زیادہ کما لیے ہوں گے اور بلبلے جیسا یادگار ڈرامہ اس نے دھواں کے بہت بعد کیا لیکن پھر بھی آج عاشر عظیم ، نبیل ظفر سے پیچھے نظر نہیں آتا ۔ اس کے علاوہ آپ نے کبھی سوچا کہ عاشر عظیم اتنے سال پہلے پاکستان سے چلا گیا تو پھر بھی آج میں اس پر کیوں لکھ رہا ہوں ؟ سوشل میڈیا پر عاشر عظیم آج بھی ریلیوینٹ کیوں ہے ؟ 

آج آپ کی نظر سے ایک خبر گزری ہو گی کہ مصطفی زیدی کی موت آج تک ایک سوال ہے ، اس کی معشوقہ (محتاط لفظوں میں ) شہناز گل ایک بہت واضح قاتل ہونے کے باوجود نہیں پکڑی گئی اور مصطفی زیدی کی لاش ایک کمرے سے ملی ، مصطفی زیدی بھی ایک بیوروکریٹ تھا ، شاعر تھا ، شرابی اور شہناز گل کا عاشق کھلم کھلا تھا، کوئی اور شریف آدمی ایسی حالت میں مر جائے تو اس کے لواحقین منہ چھپاتے پھرتے ہیں لیکن دیکھیے کہ بیوروکریسی کتنی طاقتور ہے ، آج تک مصطفی زیدی کو کوئی برا نہیں کہہ سکا ، حالانکہ اس ملک میں وزرائےاعظم تک اپنے کردار کی صفائی دیتے پھرتے ہیں اور بی بی سی آج بھی مصطفی زیدی کا سوگ منا رہا ہے۔

بیوروکریسی کی دوسری بڑی مثال پروین شاکر ہیں ، بیوروکریٹ تھیں ، شاعر تھیں اور ایک کار حادثے میں فوت ہو گئیں ، میرا ماننا ہے کہ پروین شاکر اگر طبعی موت مرتی تو ساری عمر اتنی مشہور نہ ہوتی ، اخبارات ، رسائل ، اور ٹی وی نے جتنا وقت پروین شاکر کو ان کی موت کے بعد دیا ، عصمت چغتائی شائد اس کا آدھا حصہ بھی نہ لے پائی ہوں، سارہ شگفتہ کا تو پاکستان میں آج نام ہی کوئی نہیں لیتا ، آج بھی جو لڑکی شعر کہہ لیتی ہے اس کا ماڈل پروین شاکر ہے ، یوٹیوب بھری پڑی ہے ، ایک سکرین پر پروین شاکر کی ویڈیو لگائیں ، ایک پر موجودہ دور کی کسی شاعرہ کو لے آئیں ، میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں آپ پہلی بار میں ہی ۵۰ فی صد مشابہت دیکھ لیں گے، کچھ مثالیں تو ایسی بھی ہیں کہ بیوروکریسی کے اندر کچھ خواتین زبردستی شاعر بن گئی ہیں صرف اس لیے کہ پروین شاکر کے ساتھ نام آجائے۔

پرویں شاکر اور مصطفی زیدی دو بہت الگ مثالیں ہیں لیکن ان کا ذکر اس لیے ضروری تھا کہ اندازہ ہو سکے کہ پاکستان میں ایک مرے ہوئے بیوروکریٹ کی کتنی طاقت ہے ، عاشر عظیم تو ابھی زندہ ہے۔

عاشر عظیم صاحب کو یہ بات ضرور کرنی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان سے چلے گئے ، مذہبی انتہا پسندی کو دیکھتے ہوئے یہ انکا دانش مندانہ فیصلہ ہے ، ہماری سر آنکھوں پر ہے ، لیکن سر آپ یہ مت کہیں کہ کینیڈا میں آپ ٹرک چلا کر زیادہ خوش ہیں ، میں پاکستان میں ایک کال سینٹر میں کام کر کے جتنا خود اعتماد تھا وہ اعتماد آسٹریلیا آنے کے بعد نظر نہیں آتا خیر سے آپ تو اس ملک میں بیوروکریسی کا حصہ تھے ، آج سوشل میڈیا ایک طاقت ہے تو آپ کے وقت میں ٹی وی ایک طاقت تھی ، آپ بیوروکریسی ہی کی وجہ سے بغیر کسی تجربے کے دھواں جیسا شاندار اور کامیاب ڈرامہ بنا پائے ، آپ کو اس سسٹم کا ریگارڈ کرنا چاہیے ، آپ کے دور میں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو سو بار آڈیشن کے لیے پی ٹی وی کے گیٹ پر ذلیل ہو کر آخر اپنے خواب ادھورے چھوڑ کر فکر معاش میں لگ گئے ہوں گے۔

میں نے شروع میں سوال کیا تھا کہ کیا عاشر عظیم اپنے دور کا حمزہ شفقات تھا ؟ میرا خیال ہے کہ جی ہاں عاشر عظیم اپنے وقت میں حمزہ شفقات سے بہت آگے تھا ، حمزہ شفقات اسلام آباد کا ڈی سی رہ کر ، سوشل میڈیا پر بھرپور کوشش کے باوجود وہ مقام نہیں بنا پایا جو ہمارے ہردل عزیز عاشر عظیم نے ۱۲ انچ کی ٹی وی سے بنا لیا تھا۔

اگر اس بحث کو تھوڑا اور بڑھا لیا جائے تو یہ بیوروکریسی ہی ہے جس کی بدولت پاکستانی معاشرے میں حمزہ بنگوار اپنے اس چال ڈھال اور لائف سٹائل کے ساتھ بھی افسر ہی ہے ، ہم بہتر جانتے ہیں کہ اگر ایسی زرا سی مشابہت عام معاشرے میں کسی میں نظرآجائے تو لوگ اس کی زندگی جہنم بنا دیں گے۔


Leave a comment