پاکستان کو لاحق دوہری شہریت کا سرطان

ڈاکٹر فرحان ورک آج کل اپنے طور بہت سچ بولتے نظر آتے ہیں اور سر عام بتا رہے ہیں کہ کس طرح جہانگیر ترین نے ان کو بھرتی کیا اور پھر ان کی ٹیم نے تحریک انصاف کو سوشل میڈیا پر اٹھایا ، فیک اکاؤنٹس ، ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا جو کلچر انہوں نے پروموٹ کیا ، جہانگیر ترین کی تحریک انصاف سے چھٹی کے بعد وہ اسی کا شکار ہو گئے آجکل وہی گالیاں ان کو پڑ رہی ہیں ، فرحان ورک اپنی طرف سے سچ بول کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں (بقول ان کے اپنے ) لیکن کوئ ان سے نہیں پوچھ رہا کہ کیا آپ اب بھی جہانگیر ترین کے پے رول پر ہیں ؟ اب آپ جہانگیر ترین کے خواہش پر تحریک انصاف کے خلاف رائے بنانے کا کام کررہے ہیں ؟ کوئ نہیں پوچھے گا کیونکہ ابھی ہوا تحریک انصاف کے خلاف ہے جس دن ہوا بدلے گی فرحان ورک جیسے کئی اس دور کو اپنی کم عقلی ، نا سمجھی اور نا تجربہ کاری کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ سوشل میڈیا سے اٹھا کر کل کو اگر استحکام پاکستان پارٹی کو تحریک انصاف کی جگہ دلا دی گئی تو کچھ نیا نہیں ہو گا کیونکہ اسی تجربے کی سزا پاکستان اب بھی بھگت رہا ہے اور جب تک عام آدمی دھرنے اور احتجاج کی سیاست سے نہیں نکلے گا یہ بندر تماشہ لگا رہے گا۔

چلو مان لیا کہ عمران خان کا بیانیہ سوشل میڈیا سے پھیلایا گیا لیکن اس کی نیت اچھی تھی ۔ عمران خان کو حکومت مل گئی تو اس کے بعد اس بیانیے کی جنگ کو ختم ہونا چاہیے تھا ، تحریک انصاف کو ڈیلیور کرنا چاہیے تھا لیکن ان کا فوکس اپوزیشن کو ختم کرنے پر تھا ، عمران خان جیسے تقریریں کرتے کرتے آۓ ایسے ہی سٹیج سے خط لہراتے چلے گئے ، جب تک ادارے ان کے ساتھ تھے تو مائی باپ تھے جب ہاتھ کھینچ لیا تو غدار ہو گئے،  سب کو معلوم ہے کہ حکومتیں کیسے بنتی ہیں اور ایسے ہی بنتی رہیں گی ، جب تک سیاست دان واقعی میں عوامی خدمت کے لیے سیاست نہیں کرتے ، یہ کشتی جاری رہے گی اور باندری والا ڈگڈگی بجاتا رہے گا۔ عمران خان اور کچھ بھی نہ کرتے کم ازکم بلدیاتی نظام بحال کر دیا ہوتا ، ن لیگ کو تو بقول ان کے ڈر تھا کہ وہ ہار جائیں گے ، تحریک انصاف تو عوامی اور مقبول جماعت تھی پھر عوام کے مفاد میں لوکل گورنمنٹ بحال کیوں نہیں کی گئیں ؟ روٹ لیول گورننس اور اختیارات کی منتقلی کا تو یہی راستہ تھا لیکن تحریک انصاف کا زیادہ فوکس اس بات ہر تھا کہ بزدار کو پنجاب کا وزیراعلی بنا کے پورے صوبے کی گورننس کو ہی دم لگا دیا جائے۔ تحریک انصاف کے کسی ممبر اسمبلی ( بھاری عوامی مینڈیٹ سے جیتے ہوئے ) میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ پوچھے کہ حضرت اس کام کے لیے بائیس سال جدوجہد کی تھی ؟ خیر ممبر اسمبلی میں تو بند لفافے پر ووٹ دیتے ہوئے بھی جرات نہیں تھی۔

عمران خان سے تو بہتر یورپ کو کوئی نہیں جانتا ، ترقی یافتہ ملکوں میں جب ایک آبادی کے لیے جگہ منظور ہوتی ہے تو وہاں پارک ، لائبریری ، سکول ، ہسپتال ، ایمرجینسی سروسز غرض انسان کی ضرویات کے مطابق بنیادی سہولتیں حکومت مہیا کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ لوگ بے یارومددگا نہ ہوں ، عمران خان نے ایک کروڑ گھروں کا اعلان کرنے کے علاوہ کیا کیا ؟ کوئی پالیسی بنائی گئی کہ چار ، چھ شہروں کو چھوڑ کر جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے آباد کر رکھے تھے ، اس کے باہر کے پاکستان پر بھی کوئی توجہ دی جائے ؟  اور کچھ نہ کرتے کم از کم پاکستان میں ایمرجینسی سروسز کو ہی فعال کر دیا ہوتا کہ پاکستان کے دیہاتوں میں آج بھی لوگ بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ صرف معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ آسٹریلیا میں پچھلے سال آپٹس (ٹیلی کام کمپنی)  کے نیٹ ورک سے صرف چوبیس گھنٹوں کے لیے ایمرجینسی سروسز کو کال کرنا ممکن نہیں تھا  تو آپٹس کو کم از کم۴۸۰ ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔ آپٹس کی ہائیر منیجمنٹ کو استعفی دینا پڑا ، ان کی سینیٹ کمیٹی میں پیشی ہوئی اور کمپنی کو تین ماہ کسٹمر کر ریلیف دینا پڑا ، اس کے باوجود دس لاکھ کسٹمر چھوڑ گئے، شائد یہاں تک پہنچنے میں پاکستان کو بہت وقت لگ جائے گا لیکن خان صاحب کم از کم شروعات تو کر گئے ہوتے۔

پی ٹی آئی کے دوست تب تک فوج کے گن گاتے تھے جب تک وہ عمران خان کے سہولت کار تھے ، اپوزیشن کو دھمکاتے تھے ، اٹھاتے تھے اور جب انہوں نے آنکھیں پھیریں تو وہ غدار ہو گئے ، فوج مخالفت میں ایک وہ طبقہ بطور خاص شامل ہے جو خود فوج میں جاتے جاتے رہ گیا ، ان کے کاغذات دیکھ لیں تو ان پر تین تین مہریں لگی ملیں گی ، ان کے آئی ایس ایس بی کلئیر ہو گئے ہوتے تو آج یہ اسی فوج کا حصہ ہوتے ، نہیں شامل ہو سکے تو اب بغض میں ان کے خلاف ہیں ، بھائی کچھ ہوش کے ناخن لو ، مخالفت اس طرح نہیں ہوتی آپ تو باولے ہی ہو گئے ہیں ۔ کسی نظریے کی یا کسی نقطہ فکر کی مخالفت ہو تو سمجھ آتی ہے لیکن ان پہ گلا نہیں ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ۲۰۱۱ سے پہلے یہ بے وقوف تھے اور ان کے باپ دادا بہت بڑے جاہل تھے ، پھر عمران خان آیا تو انکو ہدایت مل گئی ، شعور آ گیا، اس سے پہلے کا ان کو پتہ ہی نہیں ہے اس سے پہلے کے زمانے کو یہ زمانہ جاہلیت کہہ کر بھول چکے ہیں ، مگر ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ایک انکا زمانہ جاہلیت ۲۰۱۱ میں ختم ہوا اور ایک بار پھر ان کو ۲۰۲۲ میں پچھلے گیارہ سال کو دوبارہ زمانہ جاہلیت کہنا پڑا ، ان کا ماننا ہے کہ معاشرتی علوم نے انکا دماغ خراب کیا تھا ، کیا واقعی ؟ میرے بھائی پڑھانے والے استاد کو بھی معلوم ہے کہ معاشرتی علوم کتنا اہم مضمون ہے ، کس سکول سے پڑھے ہیں یہ لوگ جہاں ان کو معاشرتی علوم اتنی دل جمعی سے پڑھائی گئی کہ یہ فوج کے عاشق ہو گئے تھے واللہ میں نے آج تک اتنی لگن سے کسی کو نہ معاشرتی علوم پڑھتے دیکھا اور نہ پڑھاتے دیکھا، اصل یہ فوج کے عشق میں پاگل اس لیے تھے کہ وہ ان کو کامیابی کا شارٹ کٹ نظر آتا تھا اور یہ عوام شارٹ کٹ کی تو اتنی دیوانی ہے کہ ٹریفک سگنل سے ٹھیک ایک سو میٹر پہلے فٹ پاتھ کی اینٹیں توڑ کر راستہ بنایا ہوتا ہے۔

پی ٹی آئی کے انقلاب کا دوسرا بڑا دیوانہ طبقہ وہ ہے جو آج سے بہت سال پہلے یہ سمجھ چکا ہے کہ پاکستان ایک جنگل ہے ، یہاں کچھ نہیں بدلے گا اور وہ وہاں سے نکل آئے۔ وہاں سے آ تو گئے مگر جہاں پہنچے وہاں پر ایڈجسٹ نہیں ہو سکے ، یورپ ، آسٹریلیا اور امریکہ میں کئی سال سے رہ رہے ہیں مگر ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ ان کا گھر کس حلقے میں آتا ہے ، یہ یہاں پر ووٹ صرف جرمانے سے بچنے کے لیے دیتے ہیں اور ان کو یہاں کے سیاسی نظام کی سمجھ آ بھی نہیں سکتی ، یہاں الیکشن کے دنوں میں بڑے بڑے پوسٹر کے ساتھ بڑی بڑی گاڑیاں فراٹے بھرتی نظر نہیں آتیں ، یہاں پر جلسے نہیں ہوتے ، یہاں بریانی نہیں بانٹی جاتی ، یہاں الیکشن آفس نہیں بنتے ، یہاں کارنر میٹنگز نہیں ہوتیں اور نہ یہاں الیکشن سے پہلے کوئ دعائے خیر کرتا ہے۔ پاکستانی عوام کو ان کاموں کا نشہ ہے اس لیے یہ باقی پانچ سال پاکستان جائیں یا نہ جائیں یہ الیکشن پر ضرور پاکستان جائیں گے ، سفید لٹھہ پہن کر جو چودراہٹ کا مزہ ہے وہ یہاں پوسٹ باکسز میں بروشر تقسیم کر کے الیکشن کمپین کرنے میں کہاں ۔ یہ لوگ یہاں اچھی زندگی گزارتے ہیں ، سودی نظام میں کام کرتے ہیں ، سودی نظام سے گھر ، گاڑی لیتے ہیں اور سیر سپاٹے کرتے ہیں لیکن ان کو پاکستان میں شریعت چاہیے ، اور اس منافق ٹولے کا سربراہ پچھلے دنوں پاکستان میں اعلان کر کے گیا ہے کہ پاکستان میں شریعت لے آؤ تو میں شہریت بھی لے لوں گا، مطلب جو لوگ یہ زندگی پاکستان سے باہر گزارتے ہیں یہ چاہتے ہی نہیں کہ وہ زندگی پاکستانی گزار سکیں انہوں نے پاکستان کو اپنے تجربات کے لیے لیبارٹری بنایا ہوا ہے ، ان کے بچے تو خیر پاکستان سے ہی لاتعلق ہیں لیکن ان کے ان تجربات کی وجہ سے کئی پاکستانی ماؤں کے بچے ابدی نیند سو گئے ہیں ، کچھ افغان جہاد کے نام پر ، کچھ انقلاب کے نام پر اور کچھ مذہبی جنونیت کے نام پر ، پاکستان سے میلوں دور بیٹھے ان انقلابیوں سے کوئی پوچھے کہ حضرت آپ خود ان دھرنوں میں کب آئیں گے ؟ کب پکے پکے پاکستان آ کر اپنے مقصد کے لیے زندگی وقف کریں گے ؟ یہ اوور سیز پاکستانی ان دھرنوں اور احتجاجوں میں خود بھی کبھی نہیں آئیں گے اور بچوں کو لانے والا سوال ہی غلط ہے ، پاکستان کے رہنما چاہے وہ ن لیگی ہوں ، جیالے ہوں یا تحریک انصاف والے ہوں ، وہ اپنی اولادوں کو ان دنگوں سے دور رکھتے ہیں تو کسی اوور سیز پاکستانی سے یہ توقع ہی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کو ایندھن مل رہا ہے اور جب تک ملتا رہے گا یہ کفن باندھ کے نکلنے کا مشورہ دیتے رہیں گے ، غریب کا بچہ ان کی باتوں میں آکر کفن باندھ کر نکلے گا اور جب مارا جائے گا تو یہ واویلا شروع کر دیں گے کہ اپنے لوگوں پر گولی چلا دی ، یہ چپ نہیں ہوں گے ۔

پاکستانیوں کے لیے دوبئی نے ویزا پابندی لگا دی ہے ، سعودیہ عمرہ اور حج کے لیے اب سو طرح کے کاغذات مانگ کر پالیسی سخت کرے گا لیکن ہم کو عقل پھر بھی نہیں آ رہی ، خصوصی طور پر اس میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان سے باہر آ چکے ہیں ، ابھی حالیہ دنوں میں میلبورن ، سڈنی اور پرتھ میں عمران خان کی رہائی کے لیے ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ یہ طرز سیاست یہاں کا ہے ہی نہیں لیکن ہم کو تو ایکٹیویٹی چاہیے ، واٹس ایپ سٹیس لگانا ہے ، یوٹیوب چینل چلانے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا نا اور جب تھوڑی سی حل جل کی تو پاکستانی تو یہاں پر بھی ہیں ، سو پچاس بے وقف یہاں بھی مل جائیں گے لیکن اس کا نتیجہ پاکستان کے ویزا درخواستوں کی ریجیکشن دیکھ کر نظر آتا ہے ، لیکن یہ تو آچکے ہیں ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی پی ٹی آئی کا دھرنا ختم ہوا ہے تو تھوڑے دنوں میں جماعت اسلامی کو فلسطین یاد آ جائے گا پھر ان کے حمایتی یہاں فلسطین کے جھنڈوں کے ساتھ نکل پڑیں گے ، یہ اس قدر منافق ہیں کہ آسٹریلیا کھلم کھلا اسرائیل کا حمایتی ہے لیکن یہ کبھی اس بات پر احتجاج نہیں کریں گے کہ آسٹریلیا، اسرائیل کو سپورٹ کیوں کر رہا ہے ، پاکستانی طرز سیاست کو فالو کرتے ہوئے یہ کسی وزیر کو معافی مانگنے پر مجبور نہیں کریں گے ، ان کے بچے پاکستان سے باہر اسرائیل کے حمایتی ملکوں میں عیش کی زندگی گزاریں گے اور یہ پاکستان میں احتجاج کر رہے ہوں گے کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر آواز اٹھائے ، کیا ہمارے پاکستان کے سارے مسائل ختم ہو گئے ہیں کہ ہم کو کشمیر اور فلسطین کا غم کھائے جا رہا ہے ؟ اپنے حصے کا پاکستان ٹھیک کیجیے ، سارا پاکستان ٹھیک ہو جائے گا اور جب پاکستان اس قابل ہو کہ انٹرنیشنل معاملات کو ڈیل کر سکے تو سڑکوں کی سائیڈ پر کھڑے ہو کر یک جہتی کر لیا کر کے حکومت کو احساس دلا دینا لیکن مہربانی کر کے یہ دھرنے اور احتجاج کی سیاست کا خاتمہ کریں۔

پاکستان کو درپیش مسائل کا آسان اور فوری حل یہی ہے کہ حکومت فوری دوہری شہریت ختم کرے اور جو لوگ ویزا پر پاکستان سے باہر ہیں ان کے لیے ووٹ دینے کے لیے ایک سال میں کم از کم تین ماہ پاکستان میں رہنا ضروری قرار دے ، جس کو پاکستان کی سیاست سے اتنی ہی دلچسپی ہے وہ اس پاکستان میں رہے ، اس کو بھگتے اور قریب سے دیکھے تو پھر اس کو ووٹ کا حق ہے اور امید ہے وہ فیصلہ بھی ٹھیک کر پائے گا۔


Leave a comment