کیوں ضروری تھا ؟

زندگی چار دن کی ہو یا چار سو سال کی ، مرنے والے سے اگر پوچھا جائے تو دو چار باتیں ایسی اس کے دل سے نکل آئیں گی جو سوچی تو تھیں ، بولنے کی مہلت نہیں ملی ، کچھ کرنے کا سوچا ہو گا اسے کر گزرنے کی استطاعت نہیں ہو گی اور سب کچھ ہونے کے باوجود شائد آپ جیسے چند لوگوں کا سوچ کر بھی کئی لوگ بہت سی باتیں دل میں لیے مر جاتے ہیں ، کہیں پڑھا تھا کہ قبرستان ایک دولت سے مالا مال ہیں اور وہ دولت ذہانت کی ہے کہ بہت سارے ذہین دماغ بغیر خرچ ہوئے اس جہان سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اور ہزار وجہیں ہوں گی پر اک وجہ منیر نیازی نے بھی بیان کر دی تھی کہ

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔

بہت بار میں نے بھی دیر کی ، ان کا پچھتاوا رہے گا، ان پچھتاووں کو کم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جو سوچاہے وہ کرو۔

عبدالستار ایدھی ایک عہد ساز شخصیت تھی اور جہان ان کے چاہنے والے بہت ہیں وہیں کچھ مہربان ان سے نالاں بھی تھے۔ جب ایدھی صاحب بستر مرگ پر تھے تو ان دنوں میں یونیورسٹی میں تھا ، دل میں خیال آیا کہ اسلام آباد سے کراچی تک اک ٹریلر ، ایدھی صاحب کی پاکستان کے لیے خدمات کے شکریہ کے طور پر چلایا جائے، جس کو پھولوں سے بھر کر لے جایا جائے ، راستے میں جو کوئی اپنا پھول بھیجنا چاہے اس ٹریلر میں آ کر ہمیں دے دے اور ہم یہ تحفہ ایدھی صاحب تک پہنچا دیتے، اسلام آباد سے کراچی اگر جاتے تو ہو سکتا ہے ایک ٹریلر کم پڑ جاتا لیکن میں سستی کر گیا، آئیڈیا میرا تھا تو مجھے آگے آنا چاہیے تھا ، لیڈ کرنا چاہیے تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا ، یونیورسٹی سے چھٹی ہوئی میں گھر چلا گیا اور اگلے دن ایدھی صاحب وفات پا گئے ، یہ پچھتاوا ہے کہ ایدھی صاحب کا شکریہ ادا نہیں ہو سکا ، بے شک ایدھی صاحب کو اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن میری زندگی میں ایک پچھتاوے کا آضافہ ہو گیا۔

ایدھی صاحب کو لے کر جو ایک افسوس تھا اس کے بعد سوچا کہ اب آئندہ جو سوچا جائے وہ کیا جائے ، جتنے پچھتاوے کم ہوں اتنا اچھا ہے۔ شائد میٹرک کے دنوں سے فوک گلوکاری کے شہنشاہ طالب حسین درد کو سن رہا تھا اور خواہش تھی کہ کبھی طالب حسین کو لائیو سنوں مگر موقع نہیں مل سکا ، وقت گزرتا رہا اور طالب حسین درد بھی بوڑھا ہوتا گیا ، ہمارے علاقے میں پروگرام کم ہوتے گئے اور آخر ایک دن خبر ملی کہ تلہ گنگ میں ایک شادی کا فنکشن ہے جہاں عمران طالب نے پروگرام کرنے آنا ہے لیکن وہ کوئ جان پہچان والے لوگ ہیں تو باباطالب نے اگر نہیں بھی گایا تو فنکشن پر آئے گا ضرور ، میں اسلام آباد تھا سوچا کہ پھر موقع ملے گا کہ نہیں چلا جائے، میں شام کو وہاں سے نکلا اور جن دوستوں نے آنا تھا ان کو بتا دیا ، میں جب تلہ گنگ پہنچا وہ بھی آ چکے تھے ، (ملحقہ تصویر اسی پروگرام کی ہے) ہم بابا طالب کو سننے گئے لیکن بابا جتنا گا سکتا تھا گا چکا تھا ، سٹیج پر آیا اور اپنی بیماری کا بتا کر معذرت کر لی لیکن میں نے نم آنکھوں سے اس شخص کو سٹیج چھوڑتے دیکھا جس کو لوگ پوری رات جاگ کر سنتے تھے ، کچھ کو پوری سمجھ بھی نہیں آتی تھی اور کچھ سن کر روتے بھی تھے ، بہرحال یہ میرے علم میں بابا طالب کا یہ تلہ گنگ کا آخری دورہ تھا اور اس کے کچھ وقت بعد انتقال ہو گیا۔

پھر یہاں پر انٹری ہوتی ہے زندگی کے اس دور کی جہاں ہر بندہ، بندر بن جاتا ہے اور سب کو اپنے حصے کے چھتر پڑتے ہیں ، میں نے پوڈکاسٹ شروع کرنے کا ۲۰۱۶ میں سوچا تھا ، اب اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں پوڈکاسٹ اس وقت شائد شروع ہو رہی تھی اور اگر زیادہ اپنے منہ، میاں مٹھو بن لیا جائے تو پاکستان کے اولین پوڈکاسٹر بھی اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کو گالیاں دے کر گزارہ کر رہے تھے ، لیکن وہ کر رہے تھے ۔ میں نے فیس بک پر چوبارہ کے نام سے پیج بنایا ، آئیڈیا دوستوں کے ساتھ ڈسکس کیا ، سراہا گیا ، لیکن کام شروع نہیں کیا ، ڈسٹریکشن بہت تھی ، میں پڑھائ جو کر رہا تھا اس میں دلچسپی ہی نہیں تھی، میں جس ماحول میں تھا وہاں مس فٹ تھا ، میرے اردگرد جو لوگ تھے چند ایک کو چھوڑ کر ان کے اور میرے خیالات مختلف تھے ، ہمارا دوست شہاب مرحوم اس وقت ہم کو ایف ۳۵ کی کہانیاں سناتا تھا اور ہم اس کامذاق اڑاتے تھے ، میں جو تھوڑا بہت غیرنصابی کتابیں پڑھتا تھا وہ بھی چھوڑ چکا تھا ، مستقبل کی فکر تھی اور سمجھ کچھ نہیں آ رہا تھا ، خیر چوبارہ کے نام سے پوڈکاسٹ شروع کرنے کا سوچا لیکن کام نہیں کیا ، آج کل جب سوشل میڈیا پر نئے نئے نمونے دیکھتا ہوں تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مجھ جیسے جو کچھ اچھا کرسکتے تھے وہ مستقبل کی فکر میں شروع ہی نہیں کر سکے اور جب سہی لوگ سہی جگہ نہیں ہوتے تو ان کی جگہ پھر وہ لوگ ضرور ہوتے ہیں جو لائق نہیں ہوتے مگر سپیس کا فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرجاتے ہیں۔

ایسی بہت سے آہیڈیاز تھے جو چائے کے ٹیبل سے آگے نہیں بڑھ سکے ، وقت کی دھند میں گم ہو گئے اور جب کسی اور کو کرتے دیکھا تو سوچا کہ یہ تو میرے بھی دل میں تھا تو دوستو میدان اسی کا جو میدان میں اترے گا ، صرف سوچنے سے تو شطرنج بھی نہی جیتی جاتی ، چال چلنی پڑتی ہے ، آپ کے دل میں بھی جوآئے اس پر کام کریں ، اللہ پاک برکت ڈالے گا۔

سنگوالہ انڈیپینڈینٹ کا خیال دو وجہ سے آیا کہ شائد اب بھی میری طرح کوئ لکھنا چاہتا ہو اور ڈر رہا ہو تو اس کو ایک غیر رسمی پلیٹ فارم دیا جائے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جہاں میں ابھی رہتا ہوں یہ چھوٹا سا قصبہ ہے “تیمورا” کے نام سے ، یہ بمشکل چھ ہزار کی آبادی ہے لیکن یہاں کا ہفت روزہ اپنا اخبار ہے جو ۱۸۹۹ کے آس پاس شروع ہوا ، تب سے لے کر سارا ریکارڈ پبلک لائبریری میں موجود ہے اور اس شہر کی زندہ تاریخ ہے۔ میں نے بھی سنگوالہ کی تاریخ محفوظ کرنے کا سوچا ہے اس میں سے کوئ منافع کی توقع نہیں ہے اور اس کو جاری رکھنے میں کوئ اتنا زیادہ خرچہ بھی نہیں ہے ، وقت درکار ہے جو اب بہت وافر ہے ، کلیرٹی بھی مل گئی ہے اس لیے باقی معاملات بھی امید ہے اس سے متاثر نہیں ہوں گے کیوں کہ اب باندر چھتر کھا کر الحمداللہ کافی آذاد ہو چکا ہے۔

آپ میں سے جو لوگ لکھ سکتے ہیں ان سے بس اتنی گزارش ہے کہ بسم اللہ کیجیے، مشہور صوفی گائیک اسرار شروع کے دنوں میں حسن نثار کے “چوراہہ” پروگرام میں آیا تھا تو ایک بہت خوبصورت بات کی تھی کہ “ سر چوراہے تک آپ لے آئے ہیں اب آگے جہاں بھی جاؤں گا آپ کی وجہ سے ہی جاؤں گا “ اور اس کے بعد اسرار نے شکر بھی بانٹی اور افغان جلیبی بھی گایا، میرا چوبارہ تو کبھی آباد نہیں ہو سکا ( اگر آپ کو لاہور کی تاریخ کا علم ہے تو اس کو جملے کی تشریح نہ کریں ) کیا پتہ آپ سنگوالہ انڈیپینڈینٹ سے اڑان لے جائیں تو میں اتنے میں خوش ہو جاؤں گا۔

والسلام

عاقل اعوان


Leave a comment